
داراشکوہ کی پوری زندگی علم و فن اور فکر و فلسفے سے عبارت: پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد،ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور رواداری کا چراغ روشن کرنے میں داراشکوہ کا اہم کردار: ڈاکٹر شمس اقبال ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام ''دارا شکوہ اور ہندوستان کی مشترکہ قدریں'' کے عنوان سے پینل ڈسکشن کا انعقاد نئی دہلی،23مئی (ہ س)۔ انڈیا انٹر نیشنل سینٹر، نئی دہلی میں 23 مارچ 2026 کو قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام ''دارا شکوہ اور ہندوستان کی مشترکہ قدریں'' کے عنوان سے ایک پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں بحیثیت مہمان خصوصی شری رام بہادر رائے(صدر،اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فاردی آرٹس،نئی دہلی) اور بحیثیت مہمان اعزازی پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد (رجسٹرار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد) نے شرکت کی۔ جبکہ پینلسٹ کے طور پر پروفیسر علیم اشرف خان(صدر شعبہ فارسی،فیکلٹی آف آرٹس، دہلی یونیورسٹی دہلی) اور پروفیسر فرحت نسرین (شعبہ تاریخ و ثقافت، جامعہ ملیہ اسلامیہ) شریک ہوئیں۔ ان تمام مہمانوں کا کونسل کی جانب سے شال پوشی کے ذریعہ استقبال کیا گیا۔
تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ یہ پینل ڈسکشن ایک اہم شخصیت کے کارناموں پر گفتگو کا موقع ہے۔ انھوں نے کہا کہ داراشکوہ نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، علم و حکمت اور رواداری کا چراغ روشن کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی نابغہ روزگار شخصیت نے حکومت و سلطنت کے بجائے علم و حکمت اور تعصب کے بجائے محبت کو اختیار کیا۔ ان کے اندر حقیقت کی تلاش کا جذبہ موجود تھا۔ اسی مقصد کے تحت انھوں نے سنسکرت زبان سیکھ کر اپنشد، وید اور دیگر ہندوستانی علوم و فلسفہ کو عام کیا۔ مجمع البحرین ان کی فکری وسعت اور دو تہذیبی دھاروں کے سنگم کی علامت ہے۔ دارا شکوہ نے صدیوں پہلے اختلاف میں اتحاد کی عملی صورت پیش کی۔ ان کی زندگی کا ایک اہم پیغام اپنے افکار و نظریات پر قائم رہتے ہوئے بھی صحت مند مکالمہ قائم کرنا ہے۔
مہمان خصوصی شری رام بہادر رائے نے اس پینل ڈسکشن کو بیحد اہم قرار دیتے ہوئے داراشکوہ سے متعلق کئی کتابوں کا ذکر کیا اور ان کے فکر و فلسفے کو واضح کیا۔ انھوں نے کہا کہ آج کے ہندوستان نے داراشکوہ کو ڈھونڈ نکالا ہے۔ دارا شکوہ اکبر کی رواداری کو فروغ دینا چاہتے تھے۔موجودہ ہندوستانی معاشرے میں دارا شکوہ کے فکر و فن کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ ان کی کئی ایسی تصانیف ہیں جن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں کیا جانا چاہیے۔ قومی کونسل نے ’سکینة الاولیائ‘ کے اردو ترجمے کی اشاعت کے ذریعہ ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ مہمان اعزازی پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد نے کہا کہ داراشکوہ ایک وسیع المطالعہ شہزادہ تھا۔ ہندوستانی فلسفے کا موازنہ انھوں نے اسلامی فلسفے سے کیا۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی علم و فن اور فکر و فلسفے کی تبلیغ میں گزاری۔ ان کا خیال تھا کہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کسی ایک مذہب سے نہیں بلکہ مشترکہ تہذیب سے ہے۔ ہمیں داراشکوہ کی تصانیف سے استفادہ کرتے ہوئے ان کی فکر کو سمجھنے اور عام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پینلسٹ پروفیسر علیم اشرف خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دارا شکوہ کی فکر اور ان کا فلسفہ بہت وسیع ہے۔ ان کے یہاں مذہبی اختلافات کی کوئی اہمیت نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ بہت سی کتابیں ایسی بھی ہیں جو داراشکوہ کے نام سے موسوم کر دی گئی ہیں مثلاً یوگ وسشٹ وغیرہ۔ اپنشدوں سے متعلق ان کے تراجم کی بدولت ہی یورپ میں لوگ داراشکوہ کو جان سکے۔ ان کی شاعری اور دیگر خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔دوسری پینلسٹ پروفیسر فرحت نسرین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ داراشکوہ کو عوامی مقبولیت حاصل تھی۔ وہ دہلی کے عوام میں بہت ہی محبت و احترام کے ساتھ دیکھے جاتے تھے،انھوں نے نفسیات کی روشنی میں بھی داراشکوہ کی شخصیت اور کردار کو نمایاں کرنے کی کوشش کی۔
اس موقعے پرقومی کونسل برائے فروغ اردو زبان سے شائع ہونے والی داراشکوہ کی تصنیف ’سکینة الاولیائ‘ کے اردو ترجمہ کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ یہ ترجمہ پروفیسر علیم اشرف خان نے کیا ہے۔ اس پینل کی نظامت ڈاکٹر حفیظ الرحمن(کنوینر، خسرو فا¶نڈیشن، نئی دہلی) نے بحسن و خوبی انجام دی۔ ڈاکٹر مسرت(ریسرچ آفیسر،این سی پی یو ایل) نے کلمات تشکر ادا کیے۔ اس موقعے پر قومی اردو کونسل کے اراکین کے علاوہ پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر رحمان مصور، پروفیسر پرویز اعظمی، ڈاکٹر عمران چودھری، جناب فیروز بخت احمد، جناب جسیم محمد،جناب جمشید عادل، جناب خالد رضا خان، جناب اشرف علی بستوی، جناب ساحل آغا، جمشید اقبال، ڈاکٹر جاوید رحمانی کے علا¶ہ شائقین علم و ادب کی بڑی تعداد موجود رہی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan