موتیہاری میں غیر قانونی منی لانڈرنگ ریکیٹ کا پردہ فاش، 70 لاکھ روپے سے زیادہ کی نقدی برآمد
مشرقی چمپارن، 2 مئی (ہ س)۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سورن پربھات کی رہنمائی میں سائبر پولیس نے ایک بڑے بین الاقوامی سائبر کرائم گینگ کا پردہ فاش کیا ہے، جس کا تعلق نیپال اور دنیا کے دیگر ممالک میں کرپٹو ایکسچینج سے ہے۔ سائبر پولیس کے ڈپٹی سپرنٹ
موتیہاری میں غیر قانونی منی لانڈرنگ ریکیٹ کا پردہ فاش، 70 لاکھ روپے سے زیادہ کی نقدی برآمد


مشرقی چمپارن، 2 مئی (ہ س)۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سورن پربھات کی رہنمائی میں سائبر پولیس نے ایک بڑے بین الاقوامی سائبر کرائم گینگ کا پردہ فاش کیا ہے، جس کا تعلق نیپال اور دنیا کے دیگر ممالک میں کرپٹو ایکسچینج سے ہے۔

سائبر پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ابھینو پراشر کی قیادت میں پولیس نے کئی گھنٹے تک چھاپہ مار ی کی اور ہندوستانی اور نیپالی کرنسی میں 70 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم برآمد کی۔ انہوں نے یو ایس ڈی ٹی(ڈیجیٹل کرنسی) کے تقریباً 50 کروڑ روپے کے لین دین کا بھی پردہ فاش کیا۔

پریس کانفرنس کے دوران سائبر ڈی ایس پی ابھینو پراشر نے بتایا کہ پولیس کو ہندوستان-نیپال سرحدی علاقوں میں بڑی مقدار میں نقدی اور کرپٹو کرنسی (یو ایس ڈی ٹی) سے متعلق غیر قانونی لین دین کی اطلاع ملی تھی۔ اس کے بعد سکرہنا کے ایس ڈی پی او ادے شنکر اور سائبر ڈی ایس پی کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس ٹیم نے گھوراسہن اور ڈھاکہ تھانہ علاقوں میں کئی مقامات پر چھا پہ ماری کی۔

اس چھاپہ ماری کے دوران سریندر پرساد (76 سال) گھوراسہن، وکرم کمار (21 سال) جیتنا، پریم ساگر کمار (26 سال) گھوراسہن، گنگا ساگر کمار (27 سال) گھوراسہن کو حراست میں لیا گیا۔ ان سے 56,71,600 ہندوستانی روپے اور 13,67,810 نیپالی روپے برآمد ہوئے۔

اس کے علاوہ ان کے پاس سے 11 موبائل فون برآمد ہوئے، جن میں مختلف بینکنگ ایپس اور کرپٹو والیٹس فعال تھے۔ ان کے پاس سے ایک نقد گنتی مشین، دو پی او ایس مشین، ایک سی پی یو اور ایک ٹیب کے ساتھ بڑی تعداد میں بینک اکاؤنٹ اور ای-کے وائی سی سے متعلق دستاویزات بھی برآمد ہوئے۔

ڈی ایس پی نے بتایا کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ منظم جرائم پیشہ گروہ میول اکاؤنٹس (دوسروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس) کا استعمال کرتے ہوئے کروڑوں روپے کی لانڈرنگ کر رہا تھا۔ یہ اکاؤنٹس نہ صرف ہندوستانی کرنسی کو لانڈرنگ کر رہے تھے بلکہ سرحد پار لین دین کے ذریعے اسے نیپالی بینک کھاتوں میں بھی منتقل کر رہے تھے۔ اس نے بتایا کہ اس گینگ نے بائنانس جیسے کرپٹو ایکسچینجز کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً 50کروڑ یو ایس ڈی ٹی کا لین دین کیا۔

ڈی ایس پی پراشر نے بتایا کہ تفتیش سے پتہ چلا کہ گینگ کے ارکان نے اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے بازار میں عام دکانیں کھول رکھی تھیں، لیکن ان دکانوں کی آڑ میں وہ ٹریڈنگ ایپس، کرپٹو ایکسچینجز اور سی ایس پی کے ذریعے کروڑوں روپے کی لانڈرنگ کر رہے تھے۔ تفتیش کے دوران مرکزی ملزم نے اعتراف کیا کہ ان کے متعدد بینک اکاؤنٹس پہلے ہی منجمد کر دیے گئے تھے، جس سے ان کی مشکوک سرگرمیوں کی تصدیق ہوئی تھی۔

فی الحال پولیس ہندوستانی اور نیپالی کرنسی کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل کرنسی کی اس غیر قانونی تجارت میں ملوث دیگر افراد کی نشاندہی کرنے اور اس سے منسلک کھاتوں کے ذریعہ کی چھان بین کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ چھاپہ مار ی ٹیم میں سائبر ڈی ایس پی ابھینو پراشر، سیکرہانہ ڈی ایس پی ادے شنکر، انسپکٹر ممتاز عالم، راجیو کمار سنہا، اور گھوراسہن اور ڈھاکہ تھانوں کے دیگر پولیس افسران کے ساتھ ساتھ مسلح افواج بھی شامل تھیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande