
حیدرآباد ، 2 مئی (ہ س)۔تلنگانہ کےوزیراعلی اے ریونت ریڈی نے ریاست کے روڈ ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچرکے لیے ایک پرجوش توسیعی منصوبے کی نقاب کشائی کی، جس میں دوعالمی معیارکے بس ٹرمینلز،ٹی جی ایس آرٹی سی کے لیے 1,000 الیکٹرک بسوں اورمنی بسوں کے بیڑے کا اعلان کیا۔ تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ٹی جی ایس آرٹی سی) یونینوں کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت شمس آباد میں 150 ایکڑ پرمشتمل بس ٹرمینس اور گاجولارامارم میں 100 ایکڑ پرمشتمل سہولت سے مزین تعمیرکرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1,000 الیکٹرک بسوں کوحیدرآباد میٹرونیٹ ورک کے ساتھ مربوط کیاجائے گا۔ ٹی جی ایس آرٹی سی کے لیے منی بسوں کی خریداری بھی شروع ہو گئی ہے۔ ڈیزل کا بوجھ کم کرنے کے لیے الیکٹرک بسیں ٹی جی ایس آرٹی سی فی الحال خرید نے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ آرٹی سی کے ڈیزل پرسالانہ 2,000 کروڑ روپے خرچ کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی گاڑیوں کوالیکٹرک گاڑیوں میں منتقلی کونہ صرف ماحولیاتی اقدام بلکہ ایک معاشی ضرورت قراردیا ۔ ریونت ریڈی نے یونین قائدین سے کہا کہ پے ریویژن کمیشن (پی آرسی) کے بقایا جات پرجلد ہی فیصلہ لیا جائے گا۔ انہوں نے ان سے دومتنازعہ مسائل پرتعمیری طورپرمشغول ہونے کی تاکید کی ۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مالیاتی رکاوٹوں کے باوجود کانگریس کے اقتدارمیں آنے کے بعد کارکنوں کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 1,000 کروڑ روپے جاری کیے گئے تھے،اورمہالکشمی مفت سفری اسکیم کے نتیجے میں ٹی جی ایس آر ٹی سی کو8,000 کروڑ روپے ادا کیے گئے تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق