
نئی دہلی، 2 مئی(ہ س)۔
عام آدمی پارٹی نے ایم سی ڈی کے صفائی محکمہ میں تعینات اے ایس آئی راج کمار سولنکی کی خودکشی کے معاملے پر بی جے پی پر سخت حملہ بولا ہے۔ آپ کے ایم سی ڈی کے شریک انچارج پروین کمار نے کہا کہ چار انجن والی بی جے پی سرکار میں ایم سی ڈی افسران پر وصولی کا زبردست دباو ہے۔ افسران کے استحصال کا شکار اے ایس آئی کی خودکشی کے معاملے کی سی بی آئی سے جانچ ہونی چاہیے۔ وہیں، کارپوریشن کونسلر راجیو چودھری نے کہا کہ اے ایس آئی کی خودکشی نے بی جے پی حکومت میں ایم سی ڈی میں جڑیں جما چکی بدعنوانی کی پول کھول دی ہے۔ اے ایس آئی معطل چل رہے تھے اور خودکشی سے پہلے ان کی ایک آڈیو وائرل ہو رہی ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی بحالی کے لیے ان سے 2 لاکھ روپے رشوت مانگی جا رہی تھی اور اسی دباو میں آکر انہوں نے خودکشی جیسے قدم اٹھایا۔ انہوں نے بی جے پی کے زیر اقتدار ایم سی ڈی سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے اور خاندان کے ایک فرد کو اسی عہدے پر سرکاری نوکری دی جائے، نیز پورے معاملے کی سی بی آئی سے غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے۔ پروین کمار نے کہا کہ بی جے پی کی چار انجن والی حکومت کے تحت انتظامی نظام کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور افسران پر غیر قانونی وصولی کے لیے دباو ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے اسے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف نظام کی شفافیت متاثر ہو رہی ہے بلکہ ایمانداری سے کام کرنے والے افسران کا حوصلہ بھی ٹوٹ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی آزادانہ اور منصفانہ جانچ کرائی جائے اور سی بی آئی کو اس کی تحقیقات سونپی جائیں تاکہ سچائی سامنے آ سکے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہو سکے۔
راجیو چودھری نے کہا کہ اے ایس آئی راج کمار سولنکی کی ایک آڈیو سامنے آئی ہے، جس میں وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ ان پر دو لاکھ روپے دینے کے لیے مسلسل دباو بنایا جا رہا تھا اور جب تک وہ رقم ادا نہ کریں، ان کی بحالی ممکن نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ سیدھا سوال بی جے پی کے ایم سی ڈی میں جاری نظامِ حکومت پر اٹھتا ہے۔ بی جے پی نے بڑے دعوے کیے تھے کہ چار انجن والی حکومت آنے سے نظام بہتر ہوگا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے اور ایم سی ڈی کو صرف وصولی کا اڈہ بنا دیا گیا ہے۔ راجیو چودھری نے مزید کہا کہ اتنے سنگین معاملے کے باوجود بی جے پی کے کسی بڑے لیڈر کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ معاملے کو دبانے کے لیے ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جس میں نچلے سطح کے افسران کو نامزد کر کے اعلیٰ افسران کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متوفی کے بیٹے کو اسی عہدے پر مستقل سرکاری ملازمت دی جائے اور خاندان کو ایک کروڑ روپے معاوضہ فراہم کیا جائے، نیز پورے معاملے کی سی بی آئی سے تحقیقات کرائی جائیں۔وہیں، آپ کی کونسلر موہنی جینوال نے کہا کہ راج کمار سولنکی ان کے وارڈ میں اے ایس آئی تھے اور وہ بہت ایمانداری سے کام کرتے تھے۔ کسی وجہ سے افسران سے ان کی تلخ کلامی ہو گئی تھی، جس کے بعد انہیں معطل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی دن نئے میئر نے حلف لیا، مگر انہوں نے اس واقعے پر افسوس تک ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی متاثرہ خاندان سے ملاقات کی۔رمیش بسائیا نے بھی مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی سی بی آئی سے جانچ ہو، قصوروار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے، متوفی کے خاندان کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے اور ان کے بیٹے کو اسی عہدے پر سرکاری نوکری فراہم کی جائے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais