
بی کے سی–واکولا آخری لنک مکمل، ممبئی میں مشرق–مغرب رابطہ مزید مضبوط ہونے کی امید
ممبئی ، 02 مئی (ہ س)۔ ممبئی میں مشرق اور مغرب کو جوڑنے والے اہم سڑک پروجیکٹ سانتاکروز–چیمبور لنک روڈ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں 54 میٹر طویل ٹوئن گرڈر کی کامیاب تنصیب کے ساتھ بی کے سی اور واکولا کے درمیان آخری اہم ساختی لنک مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد 10.88 کلومیٹر طویل سگنل فری کوریڈور کے جلد مکمل طور پر شروع ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے بیان کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل کے بعد شہر میں سفر کے وقت میں نمایاں کمی آئے گی، اہم سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا اور ممبئی کو ایک زیادہ مؤثر، تیز اور جدید شہری ٹرانسپورٹ نظام حاصل ہوگا، جس سے مشرقی اور مغربی مضافاتی علاقوں کے درمیان بلا رکاوٹ رابطہ قائم ہو سکے گا۔
واکولا نالہ پل کے اوپر انتہائی محدود شہری علاقے میں ڈبل لیول اسپین کی تعمیر انجینئرنگ کے لحاظ سے ایک بڑا چیلنج تھی، جہاں روایتی سپورٹ سسٹم ممکن نہ ہونے کی وجہ سے فل اسپین لانچنگ تکنیک استعمال کی گئی، جس کے تحت 700 اور 500 میٹرک ٹن صلاحیت والے کرینوں کی مدد سے 358 میٹرک ٹن وزنی گرڈرز نصب کیے گئے۔
تین گرڈرز کی مرحلہ وار تنصیب کے بعد آخری ہم آہنگی اور انضمام کا عمل کامیابی سے مکمل کیا گیا۔ تقریباً 1.4 کلومیٹر طویل بی کے سی–واکولا حصے میں 500 میٹر کا چار لین بلند کیرج وے اور 900 میٹر کے دو لین کنیکٹنگ آرمز شامل ہیں، جو اگرچہ مختصر ہیں مگر پورے نیٹ ورک کو جوڑنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد یہ کوریڈور مشرقی ایکسپریس وے اور مغربی ایکسپریس وے کو براہ راست جوڑے گا، جبکہ باندرہ کرلا کمپلیکس، سانتاکروز، واکولا، کلینا، کرلا اور چیمبور کے درمیان ٹریفک کو مزید سہل بنائے گا۔
ایم ایم آر ڈی اے کے میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سنجے مکھرجی کے مطابق یہ کامیابی صرف ایک اسپین کی تکمیل نہیں بلکہ پورے شہری نقل و حرکت کے نیٹ ورک کے انضمام کی علامت ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے