جلگاؤں میں زیادہ منافع کے لالچ میں 5 لاکھ سے زائد کی دھوکہ دہی کا معاملہ بے نقاب
۔ سرمایہ کاری کے بہانے نوجوان کو اغوا کر کے رقم چھینی گئی
جلگاؤں میں زیادہ منافع کے لالچ میں 5 لاکھ سے زائد کی دھوکہ دہی کا معاملہ بے نقاب


جلگاؤں ، 2 مئی (ہ س)۔ جلگاؤں میں زیادہ منافع کے لالچ دے کر لاکھوں روپے کی دھوکہ دہی کرنے والی ایک ٹولی کا مقامی کرائم برانچ نے پردہ فاش کرتے ہوئے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے، جبکہ متاثرہ شخص سے 5 لاکھ 20 ہزار روپے ہتھیانے کا انکشاف ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق چوپڑا تعلقہ کے دھانورا گاؤں کے رہائشی جگدیش شنکر ویاس کو ملزمان نے 1 لاکھ روپے کے بدلے 5 لاکھ روپے دینے کا لالچ دیا تھا، جس پر یقین کرتے ہوئے ویاس نے اپنے بیٹے پنکج کو 5 لاکھ 20 ہزار روپے نقد لے کر جلگاؤں کے ہوٹل کمل پیراڈائز میں بلایا۔

جیسے ہی پنکج ہوٹل کے قریب پہنچا، ملزمان نے اسے اپنی گاڑی میں بٹھا لیا اور یہ بہانہ بنایا کہ یہاں پولیس چیکنگ جاری ہے، جس کے بعد اسے بھوساول کی جانب لے جایا گیا، جہاں راستے میں اس سے 5 لاکھ 20 ہزار روپے کی رقم چھین کر اسے چھوڑ دیا گیا اور ملزمان فرار ہو گئے۔

اس واقعے کے بعد جلگاؤں کے شنی پیٹھ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا، جس پر پولیس سپرنٹنڈنٹ شری کانت دھوِرے نے مقامی کرائم برانچ کو اس کیس کی تفتیش کا حکم دیا۔

تحقیقات کے دوران سینئر پولیس انسپکٹر راہل گائیکواڑ کی رہنمائی میں کام کرتے ہوئے پولیس کو خفیہ اطلاع ملی کہ ملزمان اورنگ آباد ضلع کے کرماڈ علاقے میں ایکتا ہوٹل کے قریب چھپے ہوئے ہیں، جس کے بعد پولیس ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تینوں کو گرفتار کر لیا۔

گرفتار ملزمان میں بھاگوت دتاتراو کشتے (40 سال) شامل ہیں جو واشم پولیس ہیڈکوارٹر میں تعینات ہیں، جبکہ دیگر دو ملزمان پرکاش لکشمن شندے (40 سال، رہائشی پینبوری، ضلع واشم) اور سوپنل دلیپ دلوِی (33 سال، رہائشی تلک چوک، شِمپی ویٹال، واشم) کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ملزمان نے دورانِ تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور انہیں مزید کارروائی کے لیے شنی پیٹھ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande