
واشنگٹن،یکم مئی (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ملک ایران میں فتح حاصل کر چکا ہے، تاہم وہ بڑے مارجن سے جیتنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران عسکری اور معاشی طور پر اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ اسے بحالی کے لیے 20 سال لگیں گے۔جمعرات کی شام ’نیوز میکس‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ محض عسکری کامیابیاں کافی نہیں، بلکہ تہران سے اس بات کی ضمانت لینا ضروری ہے کہ وہ کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ انہوں نے ایرانی معیشت کی تباہی کا سہرا امریکی بحری محاصرے کے سر باندھا۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا (چینل 12) کے مطابق تل ابیب ایران کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے خاتمے کی صورت میں امریکہ اسرائیل کو ایرانی توانائی کی تنصیبات پر حملے کی اجازت دے سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائ?ل کاتز نے جلد دوبارہ کارروائی کا اشارہ دیا ہے۔ ادھر وزیر خارجہ جدعون ساعر نے ان دعوو¿ں کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ اسرائیل صدر ٹرمپ کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے، بلکہ ان کے قول کے مطابق ایرانی نظام خود ایک بڑا خطرہ ہے۔
قانونی محاذ پر امریکی انتظامیہ نے 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت 60 دن کی مہلت ختم ہونے پر اعلان کیا ہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگی کارروائیاں اب تکنیکی طور پر ختم ہو چکی ہیں۔ اس قانونی پیچیدگی کا حل نکالنے کے لیے سابق عہدے دار رچرڈ گولڈ برگ نے تجویز دی ہے کہ Epic Fury نامی آپریشن کو ختم کر کے ایک نئے نام سے نئی مہم شروع کی جائے، جس کا مرکز اپنا دفاع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہو۔دریں اثنا امریکی ویب سائٹ AXIOS کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ براڈ کوپر اور چیف آف اسٹاف نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف نئے ممکنہ فوجی منصوبوں پر 45 منٹ تک تفصیلی بریفنگ دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن مستقبل میں مزید سخت اقدامات پر غور کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan