
احمد آباد، یکم مئی (ہ س)۔
رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کو جمعرات کو نریندر مودی اسٹیڈیم میں گجرات ٹائٹنز کے خلاف چار وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ٹیم کے بلے بازوں کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود گیند بازوں نے میچ کو آخر تک سنسنی خیز بنائے رکھا۔پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آر سی بی نے 155 رنز بنائے۔ اس کے بعد گیند بازوں نے نظم و ضبط کے ساتھ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گجرات کو آسان جیت سے محروم کر دیا اور میچ کو گہرا کر دیا۔ شکست کے باوجود ٹیم کے مینٹور دنیش کارتک نے گیند بازوں اور ٹیم کے رویے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ’سب سے قابل تعریف بات کھلاڑیوں کا رویہ اور باو¿لرز کی متفقہ کارکردگی تھی۔ ایک چمپئن ٹیم کی طرح ہم نے انہیں درمیانی اوورز میں دباو¿ میں ڈالا، اگر کچھ چیزیں ہماری مرضی سے چلی جاتیں تو نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔ مجھے کھلاڑیوں کی کوشش اور رویے پر بہت فخر ہے۔‘
دنیش کارتک نے ویرات کوہلی کے 13 گیندوں میں 28 رنز کے تیز آغاز کی تعریف کی لیکن اس شکست کا ذمہ دار پارٹنرشپ کی کمی کو قرار دیا۔ کارتک نے کہا،’وراٹ نے شاندار آغاز کیا، عام وراٹ۔ ان کی بیٹنگ شاندار تھی، خاص طور پر ربادا کے اوور میں۔ لیکن ہم نے وقفے وقفے سے وکٹیں گنوائیں۔ جب بھی ہمارے پاس شراکت قائم کرنے اور میچ میں آگے بڑھنے کا موقع ملا، ہم نے وکٹیں گنوائیں، اور یہ آخر میں مہنگا ثابت ہوا۔ہیڈ کوچ اینڈی فلاور نے میچ کے بعد کہا کہ یہ نتیجہ نہیں ہے جس کے لیے ہم یہاں آئے ہیں۔ ’یہ ایک مایوس کن نتیجہ ہے۔ ہمیں وہ کارکردگی اور نتیجہ نہیں ملا جس کی ہم امید کر رہے تھے۔ آپ اس طرح کے اسکور سے بہت سے میچ نہیں جیتتے۔ بیٹنگ گروپ جانتا ہے کہ وہ اس سے بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan