

ممبئی ، یکم مئی (ہ س)۔ مہاراشٹر کے گورنر جیشنو دیو ورما نے کہا ہے کہ ملک آزادی کے امرت دور کے بعد اب 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس میں مہاراشٹر کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے پانچ کھرب ڈالر معیشت کے ہدف میں مہاراشٹر ایک کھرب ڈالر معیشت کا نمایاں حصہ بنے گا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے تیار کیا گیا “وکست مہاراشٹر 2047” ویژن دستاویز ریاست کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔گورنر نے چھترپتی شیواجی مہاراج میدان میں منعقدہ تقریب میں پرچم کشائی کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے کی فعال شرکت کے ذریعے ایک جامع، ترقی یافتہ اور مضبوط مہاراشٹر کی تعمیر ممکن ہے۔ انہوں نے دنیا بھر میں مقیم مرہٹی عوام کو مہاراشٹر دن کی مبارکباد دی اور متحدہ مہاراشٹر تحریک کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ساتھ ہی عالمی یومِ مزدور کے موقع پر محنت کش طبقے کو بھی مبارکباد دی اور کہا کہ مہاراشٹر کی تعمیر مزدوروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔اس موقع پر قانون ساز کونسل کے چیئرمین پروفیسر رام شندے، وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس، ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے، چیف سکریٹری راجیش اگروال، میونسپل کمشنر اشونی بھڈے، پولیس کے اعلیٰ افسران، تینوں افواج کے نمائندے اور مختلف ممالک کے سفارتی افسران سمیت کئی معزز شخصیات موجود تھیں۔ تقریب میں قومی ترانہ، قومی نغمہ اور ریاستی گیت کے ساتھ پرچم کو سلامی دی گئی۔گورنر نے کہا کہ مہاراشٹر نے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کیا ہے اور ڈاووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم میں 31 لاکھ 25 ہزار کروڑ روپے کے معاہدے کیے گئے ہیں۔ نئی صنعتی اور سرمایہ کاری پالیسی کے تحت 70.5 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف رکھا گیا ہے، جس سے 50 لاکھ براہِ راست روزگار پیدا ہونے کی امید ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست میں شراکتی ماڈل پر مبنی نئی پالیسی کو منظوری دی گئی ہے۔ نوی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈہ ملک کا نیا داخلی دروازہ بنے گا۔ ممبئی میں میٹرو لائن مکمل طور پر فعال ہو چکی ہے جبکہ 340 کلومیٹر آبی راستوں کا جال بھی پھیلایا جا رہا ہے۔ پالگھر کا بڑاون بندرگاہ منصوبہ ملک کا سب سے بڑا منصوبہ ہوگا جس سے 12 لاکھ سے زائد روزگار پیدا ہوں گے، جبکہ کھوپولی-کھنڈالہ لنک سے سفر کا وقت کم ہوگا۔زرعی شعبے کے حوالے سے گورنر نے بتایا کہ قدرتی آفات سے متاثر ایک کروڑ سے زائد کسانوں کو 15 ہزار 950 کروڑ روپے کی مدد فراہم کی گئی ہے، جبکہ موجودہ سیزن میں مزید ایک لاکھ 80 ہزار کسانوں کو امداد دی گئی۔ فصل قرض کے طور پر 50 ہزار 914 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے ہیں اور مفت بجلی اسکیم کے تحت لاکھوں زرعی پمپوں کو رعایت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ہزاروں شمسی پمپوں کی تنصیب نے عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔تعلیم اور نوجوانوں کے لیے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “وزیراعلیٰ طلبہ سائنس یاترا” کے تحت طلبہ کو خلائی تحقیقاتی اداروں کے دورے کا موقع دیا جائے گا، جس سے دیہی علاقوں کے طلبہ عالمی سطح کی ٹیکنالوجی سے جڑ سکیں گے۔ اسی طرح ندیوں کو جوڑنے کے منصوبے کے ذریعے ودربھ کے آٹھ اضلاع کو آبپاشی کا فائدہ پہنچے گا۔عوامی خدمات کو آسان بنانے کے لیے 18 اہم خدمات کو سادہ کیا گیا ہے اور سرکاری بھرتی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ ریاستی سطح پر ہزاروں اسامیوں پر بھرتی کی جائے گی جبکہ امیدواروں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے گورنر نے بتایا کہ “امید” مہم کے تحت 40 لاکھ خواتین مالی طور پر مضبوط ہو چکی ہیں اور یہ تعداد جلد 50 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ اس کے علاوہ لاکھوں خاندانوں کو بینک قرض فراہم کیا گیا ہے اور قبائلی طبقات کو جنگلاتی حقوق کے تحت زمین کے حقوق دیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مراٹھی زبان کو کلاسیکی درجہ ملنے کے بعد اس کے فروغ کے لیے خصوصی مرکز قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ تیسری جنس کے افراد کے لیے کاروباری قرض اسکیم بھی شروع کی گئی ہے۔ شہری رہائش اسکیم کے تحت لاکھوں گھروں کی منظوری دی جا چکی ہے۔دیہی صحت کے لیے “میرا گاؤں، صحت مند گاؤں” مہم شروع کی گئی ہے اور خواتین کی صحت کے لیے بڑے پیمانے پر طبی معائنے کیے جا رہے ہیں۔ ریاست بھر میں خصوصی طبی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ اسی طرح ناسک-تریمبکیشور میں ہونے والے سنگھست کمبھ میلے کے لیے عالمی معیار کی تیاری جاری ہے۔تقریب کے دوران مختلف پولیس دستوں، فائر بریگیڈ، سیکیورٹی یونٹس، بینڈ دستوں اور دیگر اداروں نے پریڈ میں حصہ لیا، جبکہ پروگرام کا انعقاد سرکاری پروٹوکول محکمہ کی نگرانی میں کیا گیا۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے