اتر پردیش میں ٹرین سے باہر پھینکے جانے سے بہار کے عالمِ دین کی موت پر اسد اویسی نے کارروائی کا کیا مطالبہ
اتر پردیش میں ٹرین سے باہر پھینکے جانے سے بہار کے عالمِ دین کی موت پر اسد اویسی نے کارروائی کا کیا مطالبہپٹنہ،یکم مئی (ہ س)۔ بہار کے کشن گنج سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ ایک عالم دین جو اپنی آبائی ریاست واپس جارہے تھے، مبینہ طور پر اتر پردیش کے بر
اتر پردیش میں ٹرین سے باہر پھینکے جانے سے بہار کے عالمِ دین کی موت پر اسد اویسی نے کارروائی کا کیا مطالبہ


اتر پردیش میں ٹرین سے باہر پھینکے جانے سے بہار کے عالمِ دین کی موت پر اسد اویسی نے کارروائی کا کیا مطالبہپٹنہ،یکم مئی (ہ س)۔ بہار کے کشن گنج سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ ایک عالم دین جو اپنی آبائی ریاست واپس جارہے تھے، مبینہ طور پر اتر پردیش کے بریلی ریلوے اسٹیشن کے قریب چلتی ٹرین میں مارا پیٹا گیا اور انہیں ٹرین سے باہر پھینک دیا گیا۔ ان کی لاش اتوارکی رات (26 اپریل) کو ریلوے پٹریوں کے قریب سے ملی تھی۔ اگرچہ ریلوے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ 30 سالہ مولانا توصیف رضا کی موت ایک حادثہ ہے، تاہم ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان پر ٹرین میں حملہ کیا گیا جو اقلیتی برادری کو نشانہ بنانا نفرت انگیزجرم لگتا ہے۔توصیف ایک سورجاپوری مسلمان تھے، جو بہار کے سیمانچل (شمال مشرقی) علاقے میں رہنے والی ایک کمیونٹی برادری سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے نرم مزاج اور اچھے برتاؤ کے لیے مشہور تھے۔ ان کا تعلق کشن گنج کے ٹھاکر گنج بلاک میں بھوگداور پنچایت کے تحت باکھوتولی گاؤں سے تھا۔مرحوم نے حال ہی میں سیوان ضلع کے ایک مدرسے میں پڑھانا شروع کیا تھا، لیکن 24 اور 25 اپریل کو مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری المعروف تاج الشر یعہ کے عرس میں شرکت کے لیے بریلی گئے تھے، جہاں پہلے انہوں نے تعلیم حاصل کی تھی۔توصیف کی غمزدہ بیوی تبسم نے بتایا کہ میں ان کی کال کا انتظار کررہی تھی جب وہ اتوار کی رات سیوان کے لیے ٹرین میں سوار ہونے والے تھے۔ رات 9 بجے کے تھوڑی دیر بعد کال آئی، لیکن وہ گھبراہٹ کی حالت میں تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ کچھ لوگوں نے ان سے بیہودہ باتیں کی ہیں اور انہیں ماررہے ہیں۔ انہوں نے مجھ سے مدد کے لیے شاہجہان پور (اتر پردیش میں) میں پولیس کو فون کرنے کو کہا،تبسم جس کی توصیف سے 2024 میں شادی ہوئی تھی اور وہ سرکاری اسکول ٹیچر بننے کی تیاری کررہی تھی، وہ گھبرا کر اپنے شوہر کو ویڈیو کال کرنے لگی۔ اس نے دیکھا کہ کوئی اس کے شوہرکا گریبان سے پکڑ رہا ہے۔ یہ آخری بار تھا جب اس نے اپنے شوہر کو زندہ دیکھا۔ وہ رات بھراوراگلی صبح توصیف کے موبائل فون پر کال کرتی رہی لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔پیر کی صبح تقریباً 9 بجے بریلی کینٹ تھانے کے ایک پولیس اہلکار کو کال موصول ہوئی۔ اس نے اسے بتایا کہ توصیف ٹرین سے گرکرزخمی ہوا ہے۔ جب اس نے اپنے شوہر سے بات کرنے پر اصرار کی تو اس نے اسے ان کی موت کی اطلاع دی۔ ریکارڈ شدہ کال کا ایک مختصر کلپ تبسم نے شیئر کیا ہے۔ توصیف نے اسے بچانے کے لیے شاہجہاں پور پولیس سے مدد مانگتے ہوئے سنا۔مولانا توصیف کی موت سے خاندان پراس وقت آسمان ٹوٹ پڑا جب تبسم نے توصیف کے والد محمد ابوالحسین، جو کہ ایک کسان ہیں اور دہلی اور پنجاب میں کام کرنے والے چار بھائیوں کو خبردی۔ ان میں سے دو، جن میں سب سے چھوٹا، توحید عالم، جو دہلی کے پہاڑ گنج کے ایک گیسٹ ہاؤس میں کام کرتا ہے، بریلی پہنچ گئے۔توحید نے بتایا کہ ’’ہم پیر کی شام بریلی پہنچے، چاروں طرف سے پوچھ گچھ کی اور پھر بریلی کے سول لائن کے سرکاری اسپتال سے توصیف کی لاش لانے میں کامیاب ہوئے، تب تک پوسٹ مارٹم ہو چکا تھا، ایسا لگتا تھا کہ اسے بری طرح سے مارا پیٹا گیا ہے۔ لاش کے ساتھ اس کا ذاتی سامان اور موبائل فون برآمد ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرم کا تعلق چھیننے سے نہیں تھا اور نہ ہی وہ ٹرین سے گرا تھا۔ ہم پولیس کے اس بیان کو قبول نہیں کرتے کہ وہ ٹرین سے گر کر مرگئے۔‘‘توحید نے مزید کہا، میرا بھائی ایک شریف اور معصوم آدمی تھا جو تدریس کے لیے وقف تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس پر اس کی شکل، اس کی داڑھی، لباس اور ٹوپی کی وجہ سے حملہ کیا گیا ہے، کیوں کہ وہ مسلمان تھا۔ اتر پردیش میں خوف اور نفرت کا ماحول ہے اور قتل اس کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ توحید نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین میں کوئی بھی اسے بچانے کے لیے نہیں آیا، توحید نے مزید کہا۔توصیف کے بھائی ایک ایمبولینس کرائے پر لے کر اس کی لاش کو واپس بکتولی لے آئے جہاں انہیں خاندانی روایت کے مطابق منگل (28 اپریل) کی سہ پہر سپرد خاک کر دیا گیا۔ توصیف کے بچپن کے دوست اور جنتا دل (یونائیٹڈ) یا جے ڈی یو کے یوتھ ونگ کے ریاستی نائب صدر تحسین رضا نے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک قانون لایا جائے خاص طور پر جو مسلمان کرتہ پاجامہ ٹوپی کا روایتی لباس پہنتے ہیں اور داڑھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے ریلوے سے اس واقعہ کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا اور مزید کہا کہ اسے تمام مسافروں کی حفاظت کے انتظامات کرنے چاہئیں، خواہ ان کی ذات، نسل یا جنس سے کچھ بھی ہو۔اگرچہ جے ڈی یو بہار اور مرکز میں حکمراں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا ایک حصہ ہے، تحسین نے کہا: کچھ لوگ اور تنظیمیں ہیں جو تمام مسلمانوں کو ملک دشمن اور بنگلہ دیشی سمجھتے ہیں۔ وہ آگ یا فرقہ پرستی اور نفرت کو ہوا دیتے ہیں۔ ایسی تنظیموں کو روکنے کے لیے سخت قانون لایا جانا چاہیے۔ارریہ میں مقیم ایڈووکیٹ اور سماجی تنظیم جن جاگرن شکتی سنگٹھن (جے جے ایس ایس) کے رکن رمیز رضا نے اس واقعہ کو انتہائی پریشان کن قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور منصفانہ، شفاف اور فوری جانچ کا مطالبہ کیا۔متاثرہ خاندان نے ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں کرائی ہے لیکن قانونی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔ کمیونٹی کے ارکان غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اتر پردیش حکومت اور ریلوے حکام سے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دریں اثنا اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اپنے ایکس ہینڈل پر تبسم کو توصیف کی آخری کال کا ایک حصہ شیئر کیا اور امید ظاہر کی کہ ریلوے حکام قصورواروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande