
گزشتہ چار دہائیوں سے اضافی اخراجات کو جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سے منظوری اور باقاعدہ ریگولرائز نہیں کیا گیا
جموں, 07 اپریل (ہ س) کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا (سی اے جی) نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے 1980 سے 2020 تک چار دہائیوں کے دوران کیے گئے تقریباً 1.24 لاکھ کروڑ روپے کے اضافی اخراجات کو تاحال قانون ساز اسمبلی سے منظوری اور باقاعدہ ریگولرائز نہیں کیا گیا، جس سے عوامی وسائل کے نظم و نسق کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔
سی اے جی کی مارچ 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال سے متعلق رپورٹ کے مطابق، 1980 سے 2020 کے درمیان 1,24,004.41 کروڑ روپے کے اضافی اخراجات اب تک زیر التوا ہیں۔ قواعد کے تحت بجٹ سے زائد خرچ کی منظوری کے لیے اسمبلی کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2019 میں ریاست کی تنظیم نو کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ کو الگ الگ یو ٹیز میں تقسیم کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1980-81 سے اب تک کے اپروپریشن اکاؤنٹس کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش نہیں کیا گیا، جس کے باعث اضافی اخراجات کی منظوری کا عمل تاخیر کا شکار ہے۔ سی اے جی نے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے تک اضافی اخراجات کو ریگولرائز نہ کرنا مالی نظم و ضبط کو کمزور کرتا ہے اور بجٹ کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔
دریں اثنا، محکمہ خزانہ جموں و کشمیر نے فروری 2025 میں اپنے جواب میں کہا کہ یہ ایک وراثتی مسئلہ ہے اور اسے جلد قانون ساز ادارے کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 1980 سے 2019 کے دوران 543 گرانٹس میں اضافی اخراجات کیے گئے، جن میں 2005-06 میں 12,954.06 کروڑ روپے اور 2003-04 میں 9,770.53 کروڑ روپے کے بڑے اخراجات شامل ہیں۔ مزید یہ کہ 2019-20 (یکم اپریل تا 30 اکتوبر 2019) کے دوران بھی 5,311.53 کروڑ روپے کا اضافی خرچ ریکارڈ کیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر