ایف سی آر اے ترمیمی بل 2026 اقلیتی اداروں اور فلاحی نیٹ ورک کو کمزور کرنے کی منظم سازش ہے: ویلفیئر پارٹی آف انڈیا
نئی دہلی،03اپریل(ہ س)۔ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل 2026 کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے اقلیتی برادریوں کے تعلیمی، طبی اور فلاحی اداروں کے خلاف ایک سوچی سمجھی اور منظم سازش قرار دیا ہے۔
ایف سی آر اے ترمیمی بل 2026 اقلیتی اداروں اور فلاحی نیٹ ورک کو کمزور کرنے کی منظم سازش ہے: ویلفیئر پارٹی آف انڈیا


نئی دہلی،03اپریل(ہ س)۔ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل 2026 کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے اقلیتی برادریوں کے تعلیمی، طبی اور فلاحی اداروں کے خلاف ایک سوچی سمجھی اور منظم سازش قرار دیا ہے۔

پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹرسید قاسم رسول الیاس نے اپنے ایک سخت ردِّعمل میں کہا کہ یہ بل بظاہر شفافیت اور احتساب کے نام پر لایا گیا ہے، لیکن درحقیقت اس کا اصل مقصد مسلم اور عیسائی طبقات کے زیر انتظام این جی اوز، خیراتی اداروں، تعلیمی مراکز اور طبی خدمات انجام دینے والے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ ترمیم میں ایک “نامزد اتھارٹی” کے قیام کی شق، جسے اثاثے ضبط کرنے اور اداروں کے معاملات میں براہِ راست مداخلت کا اختیار دیا جا رہا ہے، بھارت کے سیکولر اور رضاکارانہ سماجی ڈھانچے پر ایک سنگین حملہ ہے۔ ان کے بقول، وقف ایکٹ کے بعد یہ ایک اور کاری ضرب ہے جو آئینی اقدار کو مجروح کرتی ہے۔

ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ یہ بل حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ معمولی انتظامی تاخیر یا فنی کوتاہی کو جواز بنا کر تنظیموں کے اثاثے منجمد کرے، جائیدادیں ضبط کرے، اور مذہبی و خیراتی ٹرسٹوں سمیت اداروں کو تحلیل کر دے۔ انہوں نے اسے آئین ہند کے آرٹیکل25 تا 30کے تحت حاصل مذہبی و تعلیمی آزادیوں میں کھلی مداخلت قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی این جی او کا لائسنس منسوخ ہو جائے یا اس کی تجدید نہ کی جائے تو حکومت اس کے اثاثوں پر قبضہ کر کے اقلیتی اداروں کے زیر انتظام اسکولوں، اسپتالوں اور ہاسٹلز کو سرکاری مقرر کردہ منتظمین کے سپرد کر سکتی ہے۔ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ ایسے وقت میں جب اقلیتوں کے خلاف ہراسانی اور دباو¿ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ قانون سازی غیر ملکی امداد سے چلنے والے انسانی اور فلاحی کاموں کو محدود کرنے کی ایک واضح کوشش ہے۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا،”یہ بل نہ اصلاحات کے لیے ہے اور نہ ہی احتساب کے لیے، بلکہ ان اقلیتی اداروں کو کمزور اور تباہ کرنے کا منصوبہ ہے جو دہائیوں سے عوامی خدمت انجام دے رہے ہیں۔“انہوں نے مزید کہا کہ رضاکارانہ تنظیموں کے سروں پر” شمشیرِ داموکلس “لٹکا کر بی جے پی اقلیتوں کی سماجی اور تعلیمی ترقی کی شہ رگ کو مسدود کرنا چاہتی ہے اور اس کی جگہ ایک مکمل سرکاری کنٹرول والا نظام قائم کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے اس امر کی جانب بھی اشارہ کیا کہ 2022 کے بعد ایف سی آر اے پورٹل میں شفافیت میں کمی اور اس بل کا موجودہ وقت میں پیش کیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ حکومت ان آوازوں کو خاموش کرنا چاہتی ہے جو اس کی نظریاتی لائن سے اتفاق نہیں رکھتیں۔

ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے تمام شہریوں، جمہوری اداروں اور بین الاقوامی مبصرین سے اپیل کی ہے کہ وہ اقلیتی و سول سو سائٹی اداروں کے آئینی حقوق پر اس حملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔آخر میں ڈاکٹر الیاس نے مطالبہ کیا کہ ان متنازع دفعات کو فوری طور پر واپس لیا جائے جو اثاثوں کی ضبطی اور کمیونٹی کے زیر انتظام اداروں کے امور میں بے جا مداخلت کی اجازت دیتی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande