
تہران،03اپریل(ہ س)۔امریکی بحریہ نے جمعہ کو انکشاف کیا ہے کہ ایران پر حملوں میں شریک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جیرالد آر فورڈ کروشیا کی ایک بندرگاہ کے پانچ روزہ پراسرار دورے کے بعد دوبارہ فوجی کارروائیوں میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔امریکی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ یہ بحری جہاز اپنے راستے پر ہے اور ایران میں آپریشنز کی حمایت کے لیے اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر نبھانے کے لیے تیار ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق دنیا کے اس سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز کو کئی مسائل کا سامنا تھا، تاہم اب اس کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے اور آپریشنز جاری رکھنے کے لیے ضروری سامان بھی موصول ہو گیا ہے۔یہ بحری جہاز، جسے ایران پر 28 فروری کو امریکی و اسرائیلی حملے کے آغاز سے قبل بحیرہ روم میں تعینات کیا گیا تھا، 12 مارچ کو آگ لگنے کے واقعے کے بعد اس ہفتے جزیرہ کر Crete کے ایک بحری اڈے پر واپس آیا تھا۔ امریکی فوج کے مطابق اس آگ سے تقریباً 100 بستروں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس کے علاوہ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ سمندر میں قیام کے دوران جہاز کے نکاسی کے نظام (ٹائلٹس) میں شدید خرابی پیدا ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے واش رومز کے باہر لمبی لائنیں لگی رہیں۔دوسری جانب امریکی میرینز نے جمعہ کو اطلاع دی ہے کہ 31 ویں موبائل ری کونیسنس یونٹ نے ڈیگو گارسیا نیول سپورٹ فیسیلٹی پر ایک بحری حملے کی مشق کے دوران نگرانی اور جاسوسی کا مشن انجام دیا ہے۔ میرینز کا یہ 31 واں بریگیڈ امریکی ساتویں بیڑے کے آپریشنل علاقے میں یو ایس ایس ٹرپولی نامی بحری جہاز پر کام کر رہا ہے۔ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جمعہ کو خلیجی علاقے میں ایک جدید لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جو ایرانی جزیروں قشم اور ہنجام کے درمیان گر کر تباہ ہوا۔ تاہم امریکی فوج نے اس واقعے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جزیرہ قشم کے اوپر طیارہ گرانے کے ایرانی دعوے میں کوئی صداقت نہیں، ہمارے تمام طیارے محفوظ ہیں اور ایران پہلے بھی چھ بار ایسا ہی جھوٹا دعویٰ کر چکا ہے۔روسی ایجنسی ’تاس‘ کے مطابق ایرانی میڈیا نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی صدر کے اس جھوٹے بیان کے بعد، جس میں انہوں نے پاسدارانِ انقلاب کے دفاعی نظام کی مکمل تباہی کا دعویٰ کیا تھا، ایرانی بحریہ کے جدید ترین اور ملک کے مربوط دفاعی نیٹ ورک سے منسلک نظام نے جزیرہ قشم کے جنوب میں ایک دشمن لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔ ایرانی مسلح افواج کے مطابق یہ طیارہ ہنجام اور قشم کے درمیان سمندر میں ڈوب گیا۔واضح رہے کہ امریکی صدر نے پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ ایران کی بحری اور فضائی افواج تباہ کر دی گئی ہیں اور تہران کی میزائل صلاحیتیں جلد کم ترین سطح پر آ جائیں گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ایران کے خلاف آپریشن کے بنیادی مقاصد جلد حاصل کر لیے جائیں گے۔ ٹرمپ نے ایران کو پتھر کے دور میں واپس بھیجنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ اس کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ کے سربراہ نے امریکی دھمکیوں کو ہالی ووڈ کا تخیل قرار دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan