
علی گڑھ، 03 اپریل (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ لائبریری سائنس کے زیر اہتمام ”لائبریریوں میں تازہ ابھرتے ہوئے رجحانات“ کے موضوع پر منعقدہ قومی کانفرنس کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچی۔ یہ دو روزہ عالمی پروگرام، ٹکنالوجی سے متاثر عہد حاضر میں لائبریریوں کے بدلتے کردار پر مرکوز تھا۔ کانفرنس میں دنیا بھر سے ماہرین، پیشہ ور افراد اور محققین نے شرکت کی اور لائبریری و انفارمیشن سائنس میں ابھرتے رجحانات، جدت طرازی اور مستقبل کی سمتوں پر تبادلہ خیال کیا۔
اختتامی اجلاس میں پرو وائس چانسلر، اے ایم یو، پروفیسر محمد محسن خان نے ڈیجیٹل دور میں لائبریریوں کے انقلابی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے لائبریری تعلیم و خدمات میں مسلسل جدت کی ضرورت پر زور دیا۔ مہمانِ خصوصی ایئر وائس مارشل (ڈاکٹر) دیویش وتس، مشیر،سائبر سکیورٹی اینڈ کریٹیکل ٹکنالوجیز، ڈیٹا سکیورٹی کونسل آف انڈیا (ڈی ایس سی آئی)، نے لائبریری نظام میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے اثرات پر روشنی ڈالی اور ڈیٹا سکیورٹی اور ڈیجیٹل ٹکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
اس موقع پر ممتاز ماہرین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازات سے نوازا گیا۔ پروفیسر ایس مصطفیٰ کے کیو زیدی اور پروفیسر پریتی مہاجن کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2026 سے سرفراز کیا گیا، جبکہ ڈاکٹر منور اقبال، ڈپٹی لائبریرین، اے ایم یو، کو بیسٹ لائبریری اینڈ انفارمیشن پروفیشنل ایوارڈ 2026 دیا گیا۔ دیگراعزاز یافتگان میں ڈاکٹرراجیش کمار (بیسٹ اکیڈمک لائبریرین)، ڈاکٹر محمد ناظم (بیسٹ ینگ ایل آئی ایس ٹیچر)، شمس الزماں خان (بیسٹ ایمرجنگ لائبریری پروفیشنل)، ڈاکٹر وپن کمار (بیسٹ ایمرجنگ لائبریری پروفیشنل)، اور امتیاز الحق (ایل آئی ایس تعلیم میں بیسٹ سوشل میڈیا انفلوئنسر) شامل تھے۔ تنظیمی کمیٹی کے اراکین بشمول پروفیسر ایم معصوم رضا، پروفیسر نشاط فاطمہ، پروفیسر نوشاد علی پی ایم، پروفیسر سدھرما ہری داسن، پروفیسر مہتاب عالم انصاری، ڈاکٹر محمد ناظم اور ڈاکٹر مزمل مشتاق کو بھی اعزازات پیش کئے گئے۔ اس سے قبل آرگنائزنگ سکریٹری پروفیسر نشاط فاطمہ نے مہمانوں کا استقبال کیا، جبکہ ڈاکٹر محمد ناظم نے کانفرنس کی رپورٹ پیش کی۔ اختتامی کلمات پروفیسر پریتی مہاجن نے ادا کئے اور اظہارِ تشکر پروفیسر ایم معصوم رضا نے کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ