
ایم پی کے کانگریس رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کی اسمبلی رکنیت ختم، انتخابی حلقہ 22-دتیا خالی قرار
بھوپال، 03 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دتیا سے کانگریس رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کی اسمبلی رکنیت ختم کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جمعہ کو اسمبلی سکریٹریٹ نے حکم جاری کر دیا۔ جاری کردہ حکم میں کہا گیا ہے کہ مدھیہ پردیش کی سولہویں اسمبلی کے انتخابی حلقہ نمبر 22-دتیا سے منتخب رکن راجیندر بھارتی کے خلاف اسپیشل جج دگ وجے سنگھ (پی سی ایکٹ) سی بی آئی 09 (ایم پی/ رکن اسمبلی کیس) راوس ایونیو ڈسٹرکٹ کورٹ، نئی دہلی کے ذریعے مقدمہ نمبر ایس سی-06-2025 پر سنائے گئے فیصلے مورخہ 02 اپریل 2026 کے تحت جرم ثابت ہونے کے نتیجے میں تین سال کی قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔
اس وجہ سے سپریم کورٹ کے حکم مورخہ 10 جولائی 2013 کی تعمیل میں دستور کی دفعہ 191 (1) (ای) مع عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 8 کے تحت راجیندر بھارتی مذکورہ تاریخ 02 اپریل 2026 سے اسمبلی کی رکنیت کے لیے نااہل ہو گئے ہیں۔ لہٰذا مدھیہ پردیش اسمبلی میں ایک نشست خالی ہو گئی ہے۔ عدالت کے ذریعے سنائے گئے فیصلے کے تسلسل میں مدھیہ پردیش اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے نشست خالی ہونے سے متعلق حکم جاری کیا گیا ہے۔ مذکورہ جاری شدہ حکم کی تعمیل میں 02 اپریل 2026 کو مدھیہ پردیش کے گزٹ میں اطلاع شائع کر دی گئی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ دتیا سے کانگریس رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کو دہلی کی راوس ایونیو کورٹ نے ایف ڈی فرضی واڑے کے معاملے میں 3 سال کی سزا سنائی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت کا ہے جب وہ ضلع کوآپریٹو ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ بینک کے صدر تھے۔ الزامات کے مطابق بینک کے ریکارڈ اور ایف ڈی دستاویزات میں ہیرا پھیری کی گئی۔ مدت اور شرحِ سود میں تبدیلی کر کے غیر قانونی فائدہ لیا گیا اور تقریباً لاکھوں روپے کا ناجائز فائدہ حاصل کیا گیا۔
عدالت نے اس معاملے میں بھارتی کے ساتھ ایک اور ملزم کو بھی قصوروار ٹھہراتے ہوئے جرمانہ عائد کیا ہے۔ تاہم عدالت نے سزا سنانے کے ساتھ ہی کچھ راحت بھی دی ہے۔ عدالت نے تین سال کی سزا سنانے کے ساتھ ہی انہیں ضمانت دے دی ہے، جس سے انہیں فوری طور پر جیل نہیں جانا پڑے گا۔ تاہم قانون کے مطابق، دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا ہونے پر عوامی نمائندے کی رکنیت ختم کر دی جاتی ہے۔
عدالت کا حکم آنے کے بعد جمعرات کی دیر رات تقریباً ساڑھے دس بجے اسمبلی کے پرنسپل سکریٹری اروند شرما اسمبلی سکریٹریٹ پہنچے۔ اس کے بعد رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کی نشست خالی قرار دینے کا خط الیکشن کمیشن کو بھیجنے کا عمل شروع کیا گیا۔ شرما حکم ٹائپ کرا رہے تھے، اسی دوران کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری، سابق وزیر پی سی شرما اور دوسرے لیڈر بھی اسمبلی پہنچ گئے۔ دونوں رہنما براہِ راست پرنسپل سکریٹری اروند شرما کے چیمبر میں پہنچے اور پوچھا کہ اتنی رات میں اسمبلی کیوں کھولی گئی؟ پرنسپل سکریٹری شرما بغیر جواب دیے وہاں سے نکل گئے۔ اس کے بعد جمعہ کی صبح حکم جاری کر دیا گیا۔
ادھر، کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ بھارتی کی رکنیت ختم کرنے کے لیے یہ قدم بی جے پی کے اشارے پر اٹھایا گیا۔ یہ ضوابط کے خلاف ہے۔ ہم عدالت جائیں گے۔ اس معاملے پر ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری نے جمعہ کی صبح پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے کہا کہ رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کی رکنیت ختم کرنے کے خلاف کانگریس عدالت جائے گی۔ اس حوالے سے پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور سینئر ایڈووکیٹ وویک تنکھا، دگ وجے سنگھ، کپل سبل سمیت ٹیم کام کر رہی ہے، جو عدالت میں پیش کیے جانے والے دستاویزات پر تبادلہ خیال کرے گی۔
پٹواری نے کہا کہ بی جے پی جمہوریت ختم کرنے میں مصروف ہے۔ سابق وزیرِ داخلہ نروتم مشرا کا پیڈ نیوز سے متعلق معاملہ اسمبلی میں زیرِ التوا ہے۔ بینا رکن اسمبلی نرملا سپرے کے معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے اور راجیندر بھارتی کے پاس اپیل کا وقت ہونے کے باوجود رکنیت ختم کر دی گئی ہے۔
حکومتِ مدھیہ پردیش کے وزیر وشواس سارنگ نے جیتو پٹواری کے سوالات پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی کا راجیہ سبھا انتخاب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بھارتی کو بدعنوانی کے معاملے میں تین سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ بدعنوانی بی جے پی نہیں بلکہ کانگریس حکومت کے وقت ہوئی۔ بھارتی نے امانت میں خیانت کی اور پھر کورٹ کو گمراہ کیا۔ عوامی نمائندگی ایکٹ میں واضح ذکر ہے کہ اگر کسی عوامی نمائندے کو 2 سال یا اس سے زیادہ کی سزا ملتی ہے تو وہ اسی وقت اپنی رکنیت کھو دے گا۔ ایسا شخص 6 سال تک انتخاب لڑنے کا حق بھی نہیں رکھے گا۔ سارنگ نے کہا کہ جیتو پٹواری اور پی سی شرما اسمبلی کے رکن نہیں ہیں۔ صحیح معنوں میں پٹواری اور شرما کا اسمبلی پہنچنا، پھر افسر پر دباو ڈالنے کا عمل سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ان پر کارروائی ہونی چاہیے۔
تاہم، عدالت نے کانگریس رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کو اپیل کے لیے 60 دن کا وقت دیا ہے۔ اگر اس دوران ہائی کورٹ سے بھارتی کو راحت نہیں ملتی ہے تو دتیا اسمبلی سیٹ پر ضمنی انتخاب ہونا طے ہے۔ اسمبلی سکریٹریٹ کی جانب سے دتیا کی اسمبلی سیٹ خالی کیے جانے کا فیصلہ الیکشن کمیشن اور چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کو بھی بھیج دیا گیا ہے۔ اب اس معاملے میں الیکشن کمیشن طے کرے گا کہ اپیل کا وقت ختم ہونے کے بعد مدھیہ پردیش کی دتیا سیٹ پر انتخابی شیڈول کا اعلان کرنا ہے یا اس سے پہلے ہی انتخاب کی تیاری کی ہدایات دینی ہیں۔ قواعد کے مطابق نشست خالی ہونے کے 6 ماہ کے اندر ضمنی انتخاب کرائے جانے کا انتظام ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن