راپتی ندی میں ڈوبنے والے چار نوجوانوں کی لاشیں 36 گھنٹے بعد برآمد، علاقے میں سوگ کا سماں
گورکھپور، 3 اپریل (ہ س)۔ کھورابار تھانہ علاقے کے مرزا پور گاوں کے قریب راپتی ندی میں ڈوبنے والے چار نوجوانوں کی لاشیں جمعہ کی صبح برآمد کی گئیں۔ غوطہ خوروں نے تقریباً 36 گھنٹے تک جاری رہنے والے سرچ آپریشن کے بعد کامیابی حاصل کی۔ نوجوانوں کی لاشیں م
راپتی ندی میں ڈوبنے والے چار نوجوانوں کی لاشیں 36 گھنٹے بعد برآمد، علاقے میں سوگ کا سماں


گورکھپور، 3 اپریل (ہ س)۔ کھورابار تھانہ علاقے کے مرزا پور گاوں کے قریب راپتی ندی میں ڈوبنے والے چار نوجوانوں کی لاشیں جمعہ کی صبح برآمد کی گئیں۔ غوطہ خوروں نے تقریباً 36 گھنٹے تک جاری رہنے والے سرچ آپریشن کے بعد کامیابی حاصل کی۔ نوجوانوں کی لاشیں ملنے سے علاقے میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔دراصل شام 6 بجے کے قریب بدھ کی شام کو، چار نوجوان- ویرو عرف امن راج بھر (15)، انیکیت یادو (13)، وویک نشاد (15) اور گگن پاسوان (15) نے اپنی سائیکلیں ندی کے کنارے کھڑی کیں اور نہانے کیلئے ندی میں اترگئے۔ کافی دیر تک واپس نہ آنے کے بعد ان کی سائیکلیں اور چپل کنارے پر پڑی ہوئی پائی گئی، خدشہ ظاہر کیا گیا کہ وہ ڈوب گئے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے فوری طور پر راحت اور بچاو کام شروع کیا۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی 11ویں بٹالین، مقامی پولیس، غوطہ خوروں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیموں نے 36 گھنٹے تک مشترکہ آپریشن کیا۔ بالآخر جمعہ کی صبح چاروں لاشیں برآمد کر لی گئیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ضلع مجسٹریٹ دیپک مینا جائے وقوعہ پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی، تعزیت پیش کی اور حکام کو ہدایت کی کہ وہ امدادی کاموں میں کسی قسم کی غفلت نہ برتیں۔ ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے منظوری کے مطابق مرنے والوں کے اہل خانہ کو مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بی آر ڈی میڈیکل کالج بھیج دیا گیا ہے۔ادھر لاشیں ملنے کی خبر سے دیہات میں افراتفری مچ گئی ہے۔ وہ خاندان جو کل اپنے بچوں کی بحفاظت واپسی کی امید لگائے بیٹھے تھے اب وہ غم اور سوگ سے بھرے ہوئے ہیں۔ پورے علاقے میں سوگوار ماحول ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande