
نئی دہلی، 29 اپریل (ہ س)۔
سپریم کورٹ نے سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کی عرضی کو نمٹاتے ہوئے فی الحال پاسپورٹ واپس کرنے سے انکار کردیا۔ عدالت نے کہا کہ پاسپورٹ غیر ملکی سفر کے بارے میں واضح طور پر ظاہر کیے بغیر واپس نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس دیپانکر دتہ کی سربراہی والی بنچ نے تیستا سیتلواڑ کو یہ آزادی دی کہ وہ جب بھی بیرون ملک سفر کرنا چاہیں نئی درخواست داخل کر سکتی ہیں۔ ان کا پاسپورٹ فی الحال واپس نہیں کیا جائے گا۔ سماعت کے دوران عدالت نے تیستا کے وکیل کپل سبل سے پوچھا کہ کیا وہ جلد ہی کسی بھی وقت بیرون ملک سفر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ جیسے ہی سیتلواڑ اپنے سفری منصوبوں کو حتمی شکل دیں، ہمیں بتائیں۔ ہم ان کا پاسپورٹ اس طرح واپس نہیں کریں گے۔
غور طلب ہے کہ سیتلواڑ کا پاسپورٹ گجرات کی نچلی عدالت میں جمع ہے۔ ان پر 2002 کے گجرات فسادات کے بعد بے قصور لوگوں کو فریم کرنے کے لیے دستاویزات بنانے کا الزام ہے۔ اس کیس میں ضمانت کی شرط کے طور پر ان کا پاسپورٹ جمع کرایا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ