
نئی دہلی، 29 اپریل ( ہ س) ۔ دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے معاملے میں دہلی کے وزیر قانون کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کو مسترد کر دی ہے۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ اشونی پنوار نے درخواست گزار محمد الیاس کے کئی بار عدالت میں اپنا ثبوت پیش کرنے میں ناکام ہونے کے بعد درخواست کو خارج کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ 13 مارچ کو ایف آئی آر کے اندراج کا مطالبہ مسترد کر دیا گیا تھا اور درخواست گزار کو 27 مارچ کو اس حوالے سے ثبوت پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، 27 مارچ کو درخواست گزار ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ 27 مارچ کو عدالت نے دوبارہ درخواست گزار کو 8 اپریل کو پیش ہونے کا حکم دیا تاہم، درخواست گزار 8 اپریل کو بھی پیش ہونے میں ناکام رہا۔ 8 اپریل کو درخواست گزار کی جانب سے سنور چوہدری نے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ عدالت کے حکم کو سیشن کورٹ میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔ جس کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزار کو 17 اپریل کو شواہد پیش کرنے کی ہدایت کی۔17 اپریل کو درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ایڈووکیٹ محمود پراچا دلائل پیش کرنے کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ نتیجتاً، آخری موقع دیتے ہوئے، عدالت نے سماعت کی اگلی تاریخ 29 اپریل مقرر کی۔ آج ہونے والی سماعت کے دوران درخواست گزار محمد الیاس اپنے شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے۔ جسکے عدالت نے درخواست خارج کرنے کا حکم دیا۔
محمد الیاس نے مجسٹریٹ عدالت کے 13 مارچ کے حکم نامے کو سیشن کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ 13 مارچ کو مجسٹریٹ اشونی پنوار نے کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کو مسترد کر دیا تھا۔ اس سے پہلے ایڈیشنل جوڈیشل مجسٹریٹ ویبھو چورسیا نے کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ کپل مشرا نے اس حکم کو سیشن کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اس کے بعد، سیشن کورٹ نے کپل مشرا کے خلاف انکوائری کی ہدایت دینے والے مجسٹریٹ کورٹ کے حکم کو منسوخ کر دیا۔ اس دوران سابق مجسٹریٹ ویبھو چورسیا کا تبادلہ کر دیا گیا۔ اب یہ معاملہ مجسٹریٹ اشونی پنوار کے سامنے زیر سماعت ہے۔ اشونی پنوار نے ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔ اب اس معاملے میں شکایت کنندہ کی جانب سے ثبوت پیش کیے جائیں گے۔
اس سے قبل، کڑکڑڈوما کورٹ نے کہا تھا کہ یا تو تفتیشی افسر کپل مشرا کے خلاف کوئی بھی انکوائری کرنے میں ناکام رہا، یا اس نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو چھپانے کی کوشش کی۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ملزم کپل مشرا ایک عوامی شخصیت ہیں، اس لیے ان کے طرز عمل کی مزید مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے، کیونکہ ایسے افراد براہ راست رائے عامہ کو متاثر کرتے ہیں۔ عوامی زندگی میں مصروف شخص سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ آئین کے دائرہ کار میں رہ کر کام کرے۔ کپل مشرا نے 2025 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے ٹکٹ پر کراول نگر اسمبلی سیٹ جیتی تھی، جس کے بعد انہیں دہلی حکومت میں وزیر قانون بنایا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد