
ممبئی ، 29 اپریل (ہ س) ۔ مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں صنعت، انتظامیہ اور عوامی خدمات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے “مہاراشٹر مصنوعی ذہانت پالیسی 2026” کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی صدارت میں ہونے والی کابینہ میٹنگ میں کیا گیا۔ اس پالیسی کا مقصد تحقیق، اختراع اور ذمہ دار طرز حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔حکومت کے مطابق سال 2031 تک اس پالیسی کے ذریعے 10 ہزار کروڑ روپے سے زائد سرمایہ کاری حاصل کرنے اور ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ چونکہ مستقبل میں تقریباً 70 فیصد ملازمتوں کی نوعیت مصنوعی ذہانت کے باعث تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے پالیسی کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ رکھا جائے۔ریاست نے عالمی سطح پر اپنی شناخت “اخلاقی اور ہمہ گیر مصنوعی ذہانت کے قومی مرکز” کے طور پر قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اسی مقصد کے تحت “مہاراشٹر مصنوعی ذہانت مشن” قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ دو لاکھ نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کو اس شعبے میں تربیت دینے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔یہ پالیسی سات بنیادی ستونوں پر مبنی ہے۔ پہلے ستون کے تحت ریاست بھر میں جدید بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جائے گا، جس میں کم از کم دو ہزار جی پی یو کمپیوٹنگ صلاحیت فراہم کی جائے گی اور سرکاری محکموں کو بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ پانچ جدید اختراعی شہروں کی ترقی بھی شامل ہے۔دوسرے ستون میں مقامی ڈیٹا کے استعمال پر زور دیا گیا ہے، جس کے تحت مراٹھی سمیت علاقائی اور قبائلی زبانوں کے ڈیٹا سیٹ تیار کیے جائیں گے اور ریاستی سطح پر ڈیٹا ایکسچینج قائم کیا جائے گا۔ تیسرے ستون کے تحت ایک جدید تربیتی مرکز قائم کیا جائے گا، جو صنعت اور تعلیمی اداروں کے اشتراک سے کام کرے گا۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتکاروں کے لیے بھی خصوصی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔ پانچ ہزار ایسے اداروں کو مصنوعی ذہانت کے نفاذ پر 20 فیصد تک مالی معاونت دی جائے گی، جبکہ “مہا مصنوعی ذہانت ٹولز ہب” کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ 500 کروڑ روپے کے خصوصی فنڈ کے ذریعے اسٹارٹ اپس کو فروغ دیا جائے گا، جس میں حکومت اور صنعت دونوں برابر حصہ ڈالیں گے۔پانچویں ستون کے تحت ریاست بھر میں بارہ انکیوبیٹر مراکز قائم کیے جائیں گے، جہاں ہر اسٹارٹ اپ کو ایک کروڑ روپے تک مدد فراہم کی جائے گی، جبکہ خواتین کی قیادت والے اداروں کو اضافی مراعات دی جائیں گی۔ چھٹے ستون میں صحت، زراعت، تعلیم، شہری ترقی، زبان و ثقافت اور مالیات کے شعبوں میں مراکزِ امتیاز قائم کیے جائیں گے۔ساتویں اور آخری ستون کے تحت مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کے لیے مستقل نظام وضع کیا جائے گا اور ہر سرکاری محکمے کے لیے سالانہ جائزہ لازمی قرار دیا جائے گا۔سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے متعدد مالی سہولیات بھی دی جائیں گی، جن میں 20 فیصد تک سرمایہ جاتی سبسڈی، مکمل اسٹامپ ڈیوٹی معافی، بجلی پر رعایت، پیٹنٹ کے اخراجات کی واپسی اور بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کے لیے مالی امداد شامل ہے۔یہ پالیسی مہاراشٹر کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک مضبوط اور باوقار مقام دلانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے