
بھوپال، 29 اپریل (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری امت شرما نے بدھ کے روز صوبائی کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بھوپال کے سلاٹر ہاوس معاملے کو لے کر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ محض انتظامی لاپرواہی کا نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کی مذہبی عقیدت، سناتن روایات اور حکومت و انتظامیہ کی جوابدہی سے مربوط ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جہانگیر آباد میں واقع ماڈرن سلاٹر ہاوس کے حوالے سے گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل شکایتیں سامنے آ رہی ہیں۔ اس معاملے میں اسلم چمڑا اور اس کے ڈرائیور کی گرفتاری ہوئی، لیکن بعد میں انہیں ضمانت مل گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنا بڑا غیر قانونی کاروبار کیا صرف ایک شخص کے بھروسے چلایا جا سکتا ہے؟
امت شرما نے الزام لگایا کہ بھوپال کی میئر اور ایم آئی سی (میئر ان کونسل) کے ارکان نے پہلے معاملے کی معلومات سے انکار کیا، جبکہ دستاویزات کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 24 اکتوبر 2025 کو ہونے والی ایم آئی سی میٹنگ میں تجویز نمبر 6 کے تحت سلاٹر ہاوس کے کام کو مکمل کرنے کے لیے صرف 6 ماہ کی توسیع کی تجویز تھی۔ لیکن بعد میں اسی عمل میں تبدیلی کرتے ہوئے بغیر جرمانے کے وقت بڑھایا گیا اور دیکھ بھال و انتظام کا معاہدہ براہِ راست 20 برسوں کے لیے دے دیا گیا۔ انہوں نے اسے سنگین بے ضابطگی اور اقتدار کے غلط استعمال کی مثال قرار دیا۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ متعلقہ فریق پر لگائی گئی کروڑوں روپے کی پینلٹی (جرمانہ) کو پہلے عائد کیا گیا اور پھر ساز باز سے معاف کر دیا گیا۔ امت شرما نے کہا کہ جن عوامی نمائندوں نے معلومات نہیں ہونے کی بات کہی، ان کے دستخط دستاویزات میں موجود ہیں۔ ان میں میئر مالتی رائے سمیت کئی ایم آئی سی ارکان شامل ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ عوام کو گمراہ کیا گیا۔
انہوں نے ریاستی حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جانچ صرف ایک خانہ پُری بن کر رہ گئی ہے اور اصل دستاویزات کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر حکومت گئو رکشا اور مذہبی اقدار کے تئیں پرعزم ہے، تو اس معاملے پر اقتدار کے بڑے لیڈر خاموش کیوں ہیں؟ انہوں نے وزیر اعلیٰ موہن یادو سے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی عدالتی جانچ کرائی جائے، قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہو اور سچائی عوام کے سامنے لائی جائے۔ کانگریس نے واضح کیا کہ وہ اس مسئلے کو مسلسل اٹھائے گی اور مذہبی جذبات و بدعنوانی سے جڑے ہر پہلو کو بے نقاب کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن