
نئی دہلی، 28 اپریل (ہ س)۔ اقتصادی محاذ پر چونکا دینے والی خبر ہے۔ مارچ میں ملک کی صنعتی پیداوار کی شرح نمو پانچ ماہ کی کم ترین سطح 4.1 فیصد پر آگئی۔ صنعتی پیداوار کی نمو میں کمی بنیادی طور پر مینوفیکچرنگ اور پاور سیکٹر میں کمزور کارکردگی کی وجہ سے تھی۔قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) نے منگل کو اعداد و شمار جاری کیے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صنعتی پیداوار کے اشاریہ (آئی آئی پی) پر مبنی صنعتی پیداوار کی نمو مارچ میں کم ہو کر 4.1 فیصد رہ گئی، جو کہ پانچ ماہ کی کم ترین سطح ہے۔ مارچ 2025 میں صنعتی پیداوار میں 3.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس سے قبل اکتوبر 2025 میں صنعتی پیداوار کی شرح نمو 0.5 فیصد تھی جو کہ حالیہ سب سے کم تھی۔
این ایس او کے مطابق فروری 2026 کے لیے صنعتی پیداوار کی شرح نمو کو 5.1 فیصد کر دیا گیا ہے، جو کہ پہلے کے 5.2 فیصد کے تخمینہ سے قدرے کم ہے۔ سیکٹر وار ڈیٹا مارچ میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کی نمو 4.3 فیصد ظاہر کرتا ہے، جو پچھلے سال کے اسی مہینے میں 4 فیصد سے معمولی بہتری ہے، لیکن مجموعی ترقی سست ہے۔قومی شماریاتی دفتر کے مطابق، کان کنی کے شعبے نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5.5 فیصد کی نمو درج کی، جو ایک سال پہلے صرف 1.2 فیصد تھی۔ دریں اثنا، مارچ میں بجلی کی پیداوار کی نمو کم ہو کر 0.8 فیصد رہ گئی، جو پچھلے سال کے اسی مہینے میں 7.5 فیصد تھی۔ اس کمی نے مجموعی صنعتی ترقی پر دباو¿ ڈالا۔ مزید برآں، ہندوستان کی صنعتی پیداوار کی نمو پورے مالی سال 2025-26 کے لیے تقریباً 4.1 فیصد پر ٹھہری رہی، جو پچھلے مالی سال میں 4 فیصد تھی۔ماہرین کے مطابق مغربی ایشیا میں بحران نے سپلائی چین اور توانائی کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے جس سے صنعتی سرگرمیوں کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan