
اردو کے ادیبوں اور صحافیوں نے ڈاکٹر فاضل حسین پرویز کی خدمات کو والہانہ خراج تحسین پیش کیا
نئی دہلی،20اپریل(ہ س)۔
اردو میڈیا ایسوسی ایشن نے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے اشتراک سے اتوار کو یہاں ایک اہم اور بامقصد مذاکرہ بعنوان”معاصر میڈیا میں اردو کی اہمیت و معنویت“منعقد کیا۔ مشاورت کے مرکزی دفتر میں منعقدہ اس فکری نشست کی صدارت جناب فیروز احمد ایڈوکیٹ (صدر، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت) نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر ممتاز صحافی اور ہفت روزہ“گواہ”کے ایڈیٹر ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز شریک ہوئے۔ پروگرام کا آغاز پدم شری پروفیسر اختر الواسع کے افتتاحی کلمات سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض عبد الباری مسعود نے انجام دیے۔
واضح رہے کہ اردو میڈیا ایسو سی ایشن نے اس نشست کا اہتمام ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز کو نئی فاو¿نڈیشن کا عبد الوحید صدیقی '' میڈیا فار یونٹی'' ایوارڈ ملنے پر کیا تھا۔ یہ ایوارڈ نئی دہلی کے انڈیا انٹر نیشنل سینٹر میں ہفتے کی شام ان کو اردو صحافت کی نمایاں خدمات کے لیے معززین کے ہاتھوں سے پیش کیا گیا۔اپنے افتتاحی خطاب میں پروفیسر اختر الواسع نے زبان کی ہمہ گیری اور اس کی سماجی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ“زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا بلکہ ہر مذہب کو اپنی بقا اور فروغ کے لیے زبان کی ضرورت ہوتی ہے۔”انہوں نے اردو زبان کی تہذیبی و ادبی روایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں اردو صحافت کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہفت روزہ“گواہ”کے ذریعے سچی اور غیر جانب دارانہ صحافت کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو اردو زبان کو مستحکم بنانے میں معاون ہے۔جبکہ اپنے صدارتی خطاب میں فیروز احمد ایڈوکیٹ نے مہمانِ خصوصی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی شناخت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اردو کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز نے اپنے خطاب میں اردو زبان کو درپیش چیلنجز اور مواقع پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی کمزوری ہماری اپنی بے توجہی ہے کیونکہ ہم خود اپنی زبان کو سیکھنے اور اس کے فروغ کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کئی لوگ بیرون ملک طویل عرصہ گزارنے کے باوجود مقامی زبانیں نہیں سیکھتے، جبکہ اردو میں ایک فطری کشش ہے جو لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں مایوسی کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، وقت کے تقاضوں کو سمجھنا ہوگا اور جدید میڈیا کے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اردو کو نئی نسل تک پہنچانا ہوگا۔ اس موقع پر ڈاکٹر شفیع ایوب، ڈاکٹر مظفر حسین غزالی، جناب احمد جاوید اور عظیم اختر نے بھی اظہار خیال کیا۔
اختتامی کلمات میں مشاورت دہلی یونٹ کے صدر ڈاکٹر ادریس قریشی نے تمام مقررین، مہمانان اور شرکائ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے حوالے سے پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اردو سیکھنے یا لکھنے سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ آتی ہے، جو کہ سراسر غلط تصور ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مردم شماری اور سرکاری اعداد و شمار میں اردو زبان کو ضرور شامل کیا جانا چاہیے تاکہ حکومت کو اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی حقیقی تعداد کا علم ہو انھوں نے کہا کہ اسی بنیاد پر تعلیمی و فلاحی منصوبے ترتیب دیے جاتے ہیں۔پروگرام میں مشاورت کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن انجینئر سکندر حیات، سابق صدر نوید حامد، مشاورت کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن ڈاکٹر محمد شیث تیمی، سید عشرت علی، معین الدین حبیبی، قاضی محمد میاں، ہندوستان ایکسپریس کے اے این شبلی، ہندوستھان سماچار (اردو) کے محمد شہزاداور ملت ٹائمز کے ایڈیٹر شمس تبریز سمیت متعدد دانشوران، سماجی کارکنان اور اردو کے شیدائیوں نے شرکت کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais