
ممبئی ، 20 اپریل (ہ س) خواتین ریزرویشن بل منظور نہ ہونے کے معاملے پر سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے، جہاں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اپوزیشن پر خواتین کے حقوق میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا، وہیں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی رکن پارلیمنٹ سپریہ سولے نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ان کا چیلنج قبول کر لیا ہے اور کھلی بحث کا اعلان کیا ہے۔
ممبئی میں پیر کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریہ سولے نے کہا کہ وزیر اعلیٰ فڑنویس ایک پڑھے لکھے اور سمجھدار رہنما ہیں، لیکن خواتین ریزرویشن کے معاملے پر ان پر دہلی سے دباؤ ڈالا گیا ہوگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز کی جانب سے اتحادی جماعتوں کو اپوزیشن پر حملہ کرنے کے لیے ایک ہی موقف اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہنا چاہتیں کہ وزیر اعلیٰ جھوٹ بول رہے ہیں، لیکن اس مسئلے پر وہ کسی بھی وقت کھلی بحث کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے فڑنویس سے کہا کہ وہ تاریخ اور مقام طے کریں، وہ مباحثے کے لیے حاضر ہوں گی۔
سپریہ سولے نے مزید کہا کہ اپوزیشن کو خواتین مخالف قرار دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ناری شکتی وندن بل ستمبر 2023 میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور ہو چکا ہے اور صدر کی منظوری کے بعد یہ قانون بھی بن گیا، تاہم اس کے باوجود اس کے نفاذ میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ حلقہ بندی اور خواتین ریزرویشن کے درمیان فرق کو واضح کرے اور اس قانون کو فوری طور پر نافذ کرے، تاکہ خواتین کو ان کا جائز حق مل سکے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے