
جے پور، 20 اپریل (ہ س)۔
وزیر اعظم نریندر مودی کا منگل کے روز راجستھان کے بلوترا ضلع کے پچپدرا میں ایچ پی سی ایل ریفائنری کا دورہ، پیر کو زبردست آگ لگنے کے بعد ملتوی کر دیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ واقعے کی وجوہات جاننے اور ضروری اصلاحی اقدامات کرنے کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔خام تیل کو پروسیس کرنے والے ریفائنری کے کروڈ ڈسٹلیشن یونٹ اور ویکیوم ڈسٹلیشن یونٹ میں آج دوپہر تقریباً 2.30 بجے آگ لگ گئی، جس سے پورے کمپلیکس میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اس واقعے نے وزیر اعظم نریندر مودی کے طے شدہ دورہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ وزیراعظم نے 21 اپریل کو اسی ریفائنری یونٹ کا افتتاح کرنا تھا لیکن آتشزدگی کے بعد تقریب ملتوی کر دی گئی۔ مرکزی وزارت پٹرولیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ایکس‘ پر اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ وزارت کے مطابق واقعے کی وجوہات جاننے اور ضروری اصلاحی اقدامات کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔جیسے ہی ریفائنری یونٹوں میں سے ایک سے دھواں اٹھنے لگا، کارکنوں نے فوری طور پر فائر سیفٹی سسٹم کو چالو کردیا۔ یونٹ سے آگ کے شعلے بلند ہوتے رہے، اور دھویں کے بادل آسمان کی طرف اٹھتے رہے۔
واقعے کے فوری بعد احتیاط کے طور پر پورے علاقے کو خالی کرا لیا گیا۔ موقع پر پہنچی فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے تقریباً دو سے تین گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پانے کا دعویٰ کیا۔ راحت کی بات یہ ہے کہ اس واقعہ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ حکام کے مطابق نقصان کی حد اور اس کی وجوہات کا صحیح اندازہ آگ مکمل طور پر بجھنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔پچ پدرا میں واقع یہ ریفائنری ملک کے سب سے اہم منصوبوں میں سے ایک ہے، جو درآمد شدہ خام تیل کی مختلف پیٹرولیم مصنوعات میں پروسیسنگ کرتی ہے۔ اس میں سالانہ تقریباً 9 ملین ٹن خام تیل کو ریفائن کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس ریفائنری میں خام تیل گجرات کے موندرا پورٹ سے پائپ لائن کے ذریعے آتا ہے، جو موندرا سے تقریباً 487 کلومیٹر دور واقع ہے۔ انتظامیہ نے پورے علاقے میں چوکسی بڑھا دی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan