مشاعرہ ہماری مشترکہ تہذیب اور ثقافتی وراثت کے امین ہین: آصف اعظمی
علی گڑھ , 20 اپریل (ہ س)علی گڑھ کے معروف ادارہ وراثت کلچرل سنٹر میں ادب و شاعری کی ایک یادگار اور پروقار محفلِ کا انعقاد عمل میں آیا، جس کا اہتمام اوَدھ پوروانچل ایجوکیشنل اینڈ کلچرل اسپرٹ (اے پی ای سی ایس) فاؤنڈیشن کی جانب سے کیا گیا۔ پروگرام میں
ادبی پروگرام


علی گڑھ , 20 اپریل (ہ س)علی گڑھ کے معروف ادارہ وراثت کلچرل سنٹر میں ادب و شاعری کی ایک یادگار اور پروقار محفلِ کا انعقاد عمل میں آیا، جس کا اہتمام اوَدھ پوروانچل ایجوکیشنل اینڈ کلچرل اسپرٹ (اے پی ای سی ایس) فاؤنڈیشن کی جانب سے کیا گیا۔ پروگرام میں مہمانِ خصوصی کے طور پر پروفیسر سید سراج اجملی نے شرکت کی جبکہ صدارت معروف ادیب، فلم ساز اور سماجی خدمت گار جناب آصف اعظمی نے کی۔اس موقع پر پروفیسر محمد احمد، سماجی کارکن صدرالدین اعظمی،کرنل سنجے چترویدی،ڈاکٹر گروندر سنگھ بنگا،معروف شاعر عبدالحمید،ڈاکٹر شہاب الدین اورڈاکٹر فیروز طلعت سمیت متعدد معزز شخصیات موجود رہیں۔ مشاعرہ میں ملک کے ممتاز اور مقامی شعراء نے اپنے کلام سے سامعین کو خوب محظوظ کیا اور پورا ماحول ادبی رنگ میں رنگ گیا۔ پروگرام کے دوران شعراء کو ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ بڑی تعداد میں ادب نواز حضرات کی شرکت نے محفل کو کامیاب اور یادگار بنا دیا۔صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے آصف اعظمی نے کہا کہ یہ محفل صرف ایک مشاعرہ نہیں بلکہ ہماری مشترکہ تہذیب اور ثقافتی وراثت کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو ادب نے ہمیشہ ہندوستان میں محبت، بھائی چارے اور انسانیت کا پیغام عام کیا ہے اور یہ زبان کسی ایک طبقے کی نہیں بلکہ پورے ملک کی پہچان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گنگا جمنی تہذیب ہماری اصل طاقت ہے، جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتیں مل جل کر ایک حسین روایت قائم کرتی ہیں، اور اردو شاعری نے اس روایت کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آصف اعظمی نے کہا کہ موجودہ دور میں اس طرح کی ادبی محفلیں لوگوں کو قریب لانے اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر سید سراج اجملی نے کہا کہ اردو شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ جذبات اور احساسات کی ترجمان ہے۔ یہ دلوں کو جوڑنے اور انسانیت کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔انھوں نے کہا کہ آج کی اس محفل میں شعراء نے جس خوبصورتی سے اپنا کلام پیش کیا، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اردو ادب آج بھی زندہ ہے اور لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس قیمتی ورثہ کو محفوظ رکھیں اور آنے والی نسلوں تک پہنچائیں۔اس سے قبل استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے شعبہ اردو، اے ایم یو کے استاد ڈاکٹر شارق نے کہا کہ معزز مہمانانِ گرامی کی اس ادبی محفل میں آمد ان کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد اردو ادب کو فروغ دینا اور نئی نسل کو اس سے جوڑنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسی ادبی محفلوں کے انعقاد سے نہ صرف ادب کی ترویج ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں مثبت فکری فضا بھی قائم ہوتی ہے۔ ڈاکٹر شارق نے تمام مہمانوں، شعراء اور سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اس طرح کے پروگرام منعقد ہوتے رہیں گے۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر سادات سہیل نے انجام دیئے،ڈاکٹر سرور ساجد، ڈاکٹر معید رشیدی، ارمان خان، ممتاز اقبال، اریب عثمانی،عالی صبور، کاظم رضوی،صائن علیگ اور محمد عفان نے اپنا کلام پیش کیا۔آخر میں نیو ایرا کے ابو حضیفہ اور وراثت کلچرل سنٹر کے بانی افضال احمد نے سبھی کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی اور شہر کے معززین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔۔۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande