
ممبئی میں 164 غیر قانونی اسکولوں کا دعویٰ ، کیرٹ سومیا نے سرکاری زمینوں پر قبضے کا الزام لگایاممبئی، 19 اپریل(ہ س)۔ مہاراشٹر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی نائب صدر اورسابق رکن پارلیمنٹ کیرٹ سومیا نے اتوار کے روز الزام عائد کیا ہے کہ ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں 164 بغیر اجازت کے اسکول چلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تمام غیر قانونی اسکول گوونڈی، ملاڈ اور کرلا جیسے علاقوں میں قائم ہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیرٹ سومیا نے کہا کہ ممبئی میں گزشتہ 15 سے 20 برسوں سے زمین مافیا سرگرم ہے، جو پہلے زمین پر قبضہ کرتا ہے اور پھر اس پر بغیر اجازت نجی اسکول قائم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگاتے ہوئے کہا کہ شہر میں اب صرف زمین سے متعلق معاملات ہی نہیں بلکہ اسکولوں کے حوالے سے بھی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گوونڈی میں 65، ملاڈ میں 25 اور کرلا میں 12 ایسے اسکول چل رہے ہیں جو بغیر اجازت قائم کیے گئے ہیں۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض مقامات پران اسکولوں کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ان اداروں کا استعمال گزشتہ 15 برسوں سے ممبئی میں آنے والے غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجرین کو پناہ دینے اور نیٹ ورک بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔کیرٹ سومیا نے اس صورتحال کو ممبئی میونسپل کارپوریشن میں جاری بدعنوانی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر محکمہ داخلہ اور محکمہ تعلیم کے افسران کے ساتھ کئی میٹنگز کی ہیں۔ ان کے مطابق محکمہ تعلیم نے ان شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ان غیر قانونی اسکولوں کے خلاف اگلے ہفتے سے کارروائی شروع کی جائے گی۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے