
پونے، 19 اپریل(ہ س)۔
ایم کیورفارماسیوٹیکلزلمیٹڈ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹرنمیتا تھاپرنے کہا ہے کہ ہندوستان کی صحت خدمات کو اب سہولیات کی کمی کے مرحلے سے نکل کر بامقصد نگہداشت کی طرف بڑھنا ہوگا، جہاں ٹیکنالوجی انسانی ہمدردی کا متبادل بننے کے بجائے اسے مزید مضبوط کرے۔ انہوں نے یہ خیالات 'سِم ہیلتھ 2026' کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیے۔نمیتا تھاپر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت صحت کے شعبے کے ماہرین کو دہرائے جانے والے کاموں سے آزاد کر کے مریضوں کے ساتھ بامعنی رابطہ قائم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے متبادل علاج طریقوں کے فروغ اور خواتین کی صحت کو ترجیح دینے کو ایک جامع اور مستقبل پر مبنی صحت نظام کے لیے ضروری قرار دیا اور ملک بھر کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ تبدیلی کے سفیر بنیں۔ سمبایوسس انٹرنیشنل (ڈیمڈ یونیورسٹی) کے تحت میڈیکل و ہیلتھ سائنسز فیکلٹی کی جانب سے منعقدہ قومی کانفرنس پونے کے لاولے کیمپس میں منعقد ہوئی، جس کا موضوع اسمارٹ صحت خدمات کا فروغ: پیش گوئی، درستگی اور ذاتی نوعیت کے صحت نظام تھا۔یہ کانفرنس صحت، ٹیکنالوجی اور عوامی پالیسی کے میدان میں منعقد ہونے والی اہم تقریبات میں شامل ۔اس میں 1400 سے زائد مندوبین نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹرز، محققین، عوامی صحت کے ماہرین، آئی ٹی ماہرین اور اعلیٰ سرکاری افسران شامل تھے۔ اپنے خطاب میں نمیتا تھاپر نے ہندوستان کے صحت نظام میں تین اے یعنی دستیابی، بیداری اور استطاعت پر توجہ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تشخیص، کلینیکل آزمائشوں اور دور دراز علاقوں میں صحت سہولیات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جس سے ماہرین کو زیادہ وقت ہمدردی اور ذاتی نگہداشت پر صرف کرنے کا موقع ملے گا۔انہوں نے جدید طب کے ساتھ آیوروید، غذائیت اور قدرتی علاج کے امتزاج کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور خواتین کی صحت کے شعبے میں مزید تحقیق، بیداری اور سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ اب بھی نظرانداز ہو رہا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے