
تہران، 18 اپریل (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا ہے کہ اس کی مسلح افواج کا اس اہم سمندری راستے پر سخت کنٹرول ہے اور صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ایران نے محدود تعداد میں آئل ٹینکرز اور کمرشیل جہازوں کو وہاں سے گزرنے کی اجازت دینے کی بات کی ہے۔ اس کے ساتھ اس نے امریکہ پر اپنے وعدوں کی خلاف ورزی اور سمندری سرگرمیوں میں مداخلت کا الزام لگایا۔
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کی خبر کے مطابق، ایرانی ملٹری کمانڈ ہیڈ کوارٹر کے ترجمان خاتم الانبیاء نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ایرانی بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیاں ختم نہیں کی جاتیں تب تک اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سخت کنٹرول میں رہے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے سخت کنٹرول میں ہے اور اپنی سابقہ آپریشنل حیثیت پر برقرار رہے گا۔
ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ خیر سگالی مذاکرات کے دوران طے پانے والے سابقہ مفاہمت کے مطابق ایران نے محدود تعداد میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے منظم طریقے سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے بارہا اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور جسے وہ ناکہ بندی کہتا ہے ، اس کے بہانے ”بحری قزاقی اور لوٹ مار“ کی حرکتیں جاری ہیں۔ اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول ا س کی سابقہ حیثیت پر واپس آ گیا ہے اور یہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ مسلح افواج کے سخت انتظام اور کنٹرول میں ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ہرمز کی صورتحال اس وقت تک سخت کنٹرول میں رہے گی جب تک امریکہ ،ایران سے بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر عائد پابندیاں ختم نہیں کر دیتا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد