خواتین ریزرویشن بل کی حمایت کریں گے، لیکن حد بندی قابل قبول نہیں: ممتا بنرجی
کولکاتا، 17 اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پارٹی خواتین کے ریزرویشن بل کی حمایت کرے گی، لیکن اس کے ساتھ پیش کی جانے والی کسی دوسری تجویز کی حمایت ن
خواتین ریزرویشن بل کی حمایت کریں گے، لیکن حد بندی قابل قبول نہیں: ممتا بنرجی


کولکاتا، 17 اپریل (ہ س)۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پارٹی خواتین کے ریزرویشن بل کی حمایت کرے گی، لیکن اس کے ساتھ پیش کی جانے والی کسی دوسری تجویز کی حمایت نہیں کرے گی۔ انہوں نے حد بندی کے معاملے پر بھی سخت مخالفت کا اظہار کیا۔شمالی بنگال کے دورے سے واپسی کے بعد دم دم سنٹرل جیل کے میدان میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ خواتین کے احترام کے نام پر دوسرے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں نہ کی جائیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھانے اور خواتین ریزرویشن بل کو ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے حد بندی نافذ کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مغربی بنگال میں پہلے ہی میونسپل اداروں اور پنچایتوں میں 50 فیصد ریزرویشن موجود ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے 37 فیصد ایم پی خواتین منتخب ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خواتین کے ریزرویشن کا خیرمقدم کرتی ہیں، لیکن اس کے ساتھ حد بندی قبول نہیں کرتیں۔ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ حد بندی ملک کو تقسیم کرنے اور کچھ ریاستوں کی نشستوں کو بڑھانے جبکہ دوسروں کے اثر کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ایسی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کرے گی۔مرکزی حکومت پر ایجنسیوں کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ انتخابات کا مقصد جمہوریت کا جشن ہے، لیکن انہیں ڈرانے دھمکانے اور ہراساں کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات سے قبل ووٹر لسٹوں سے لوگوں کے نام نکال دیے گئے تھے اور مرکزی ایجنسیوں کے ذریعے مخالفین کو ہراساں کیا جا رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی مقابلہ انتخابی میدان میں لڑنا چاہیے نہ کہ دباو¿ کے ذریعے۔ ممتا بنرجی نے اشارہ دیا کہ وہ اس معاملے میں قانونی کارروائی بھی کریں گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande