سنکلپ سے سمادھان ابھیان سے فوری، موثر اور شفاف حل یقینی ہوا : وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو
سنکلپ سے سمادھان ابھیان سے فوری، موثر اور شفاف حل یقینی ہوا : وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو ۔ آخری سرے تک پہنچا حکومتی اسکیموں کا فائدہ، 999 فیصد معاملات کا ہوا وقت پر حل بھوپال، 17 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ ’سنکلپ س
وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو فائل فوٹو


سنکلپ سے سمادھان ابھیان سے فوری، موثر اور شفاف حل یقینی ہوا : وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو

۔ آخری سرے تک پہنچا حکومتی اسکیموں کا فائدہ، 999 فیصد معاملات کا ہوا وقت پر حل

بھوپال، 17 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ ’سنکلپ سے سمادھان ابھیان‘ سے ریاست میں شہریوں کی شکایتوں اور درخواستوں کا فوری، موثر اور شفاف حل یقینی بنایا گیا ہے۔ یہ مہم اچھی حکمرانی کو مستحکم کرنے اور حکومتی اسکیموں کا فائدہ آخری شخص تک پہنچانے کی سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے جمعہ کو اپنے بیان میں کہا کہ مہم کے موثر نفاذ کے لیے گاوں اور وارڈ کی سطح پر ٹیمیں تشکیل دے کر گھر گھر جا کر درخواستیں جمع کی گئیں اور کیمپ لگا کر درخواستوں کا فوری حل کیا گیا۔ ساتھ ہی پورٹل پر مبنی انٹری اور ٹریکنگ کی گئی۔ حل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سی ایم ہیلپ لائن پر خصوصی ڈیش بورڈ کے ذریعے مسلسل نگرانی بھی کی گئی۔

رابطہ عامہ افسر جوہی شریواستو نے بتایا کہ مہم کی کل مدت 12 جنوری سے 31 مارچ کے دوران ریاستی سطح پر کل 4769 لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 4768 لاکھ معاملات کا حل نکالتے ہوئے 999 فیصد درخواستوں کا کامیابی سے تصفیہ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ مہم کو مرحلہ وار طریقے سے ریاست میں نافذ کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں 12 جنوری سے 15 فروری 2026 تک گاوں اور وارڈ کی سطح پر درخواستیں جمع کی گئیں۔ دوسرے مرحلے میں 16 فروری سے 16 مارچ 2026 تک گرام پنچایت اور وارڈ کی سطح پر کیمپوں کا انعقاد کر کے موصولہ درخواستوں کا فوری حل کیا گیا۔ تیسرے مرحلے میں 16 مارچ سے 26 مارچ 2026 تک بلاک کی سطح پر کیمپ منعقد کر کے بقیہ اور نئی درخواستوں کا حل یقینی بنایا گیا۔ چوتھے اور آخری مرحلے میں 26 مارچ سے 31 مارچ 2026 تک ضلع کی سطح پر کیمپ منعقد کر کے تمام زیر التوا معاملات کا حل کیا گیا اور اہل مستفیدین کو اسکیموں کا فائدہ فراہم کیا گیا۔ مہم میں کل 3 ہزار 659 کیمپ منعقد کیے گئے۔

رابطہ عامہ افسر کے مطابق، کرنٹ کھسرا اور کھتونی کی نقل کے لیے سب سے زیادہ 8.71 لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 8.69 لاکھ سے زیادہ کا کامیاب حل کیا گیا۔ آیوشمان بھارت اسکیم میں 5.77 لاکھ سے زیادہ موصولہ درخواستوں میں سے 5.62 لاکھ سے زیادہ کا تصفیہ کیا گیا۔ کرنٹ نقشہ کی نقل کے لیے موصولہ 4.09 لاکھ سے زیادہ درخواستوں میں سے 4.08 لاکھ سے زیادہ کا حل یقینی بنایا گیا۔ دیہی علاقوں میں مکان کی تعمیر کی اجازت کے لیے موصولہ 3.64 لاکھ سے زیادہ درخواستوں میں سے 3.59 لاکھ سے زیادہ کا تصفیہ کیا گیا۔

تعمیراتی مزدوروں کے رجسٹریشن سے متعلق 2.31 لاکھ سے زیادہ درخواستوں میں سے 2.18 لاکھ سے زیادہ کا حل کیا گیا۔ ’نو ڈیوز‘ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے موصولہ 1.88 لاکھ سے زیادہ درخواستوں میں سے 1.87 لاکھ سے زیادہ کا تصفیہ کیا گیا۔ اندرا گاندھی نیشنل اولڈ ایج پنشن اسکیم میں 1.63 لاکھ سے زیادہ درخواستوں میں سے 1.52 لاکھ سے زیادہ کا حل یقینی بنایا گیا۔ کسان کریڈٹ کارڈ کی موصولہ 1.50 لاکھ سے زیادہ درخواستوں میں سے 1.48 لاکھ سے زیادہ کا تصفیہ کیا گیا۔

مقامی رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے موصولہ 1.44 لاکھ سے زیادہ درخواستوں میں سے تقریباً تمام کا حل کیا گیا۔ وہیں ’نل جل اسکیم‘ کے تحت نئے نل کنکشن کے لیے موصولہ 1.39 لاکھ سے زیادہ درخواستوں میں سے 1.33 لاکھ سے زیادہ کا تصفیہ کر کے دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کی سہولت مستحکم کی گئی۔

رابطہ عامہ افسر نے بتایا کہ محکموں کی جانب سے معاملات کے حل کا بہترین معیار حاصل کیا گیا۔ محکمہ مال میں 99.42 فیصد، محکمہ عمومی انتظامیہ میں 99.17 فیصد اور محکمہ شہری ترقی و ہاوسنگ میں 98.18 فیصد درخواستوں کا تصفیہ درج کیا گیا۔ محکمہ صحت عامہ و طبی تعلیم میں 97.44 فیصد اور محکمہ پنچایت و دیہی ترقی میں 97.65 فیصد معاملات کا کامیاب حل یقینی بنایا گیا۔

اسی طرح محکمہ تعاون میں 98.63 فیصد، محکمہ منصوبہ بندی، اقتصادیات و شماریات میں 98.39 فیصد اور محکمہ خواتین و اطفال ترقیات میں 97.94 فیصد درخواستوں کا تصفیہ کیا گیا۔ وہیں محکمہ محنت میں 93.47 فیصد اور محکمہ سماجی انصاف و معذوروں کی بااختیاری میں 93.38 فیصد معاملات کا حل درج کیا گیا۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ’سنکلپ سے سمادھان ابھیان‘ نے ریاست میں شفاف، جوابدہ اور عوام دوست انتظامیہ کو مستحکم کیا ہے اور یہ گڈ گورننس کی سمت میں ایک موثر اور نتیجہ خیز پہل کے طور پر قائم ہوئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande