
سنی تھیالوجی سیمینار تنازعہ : اے ایم یو میں انتظامی تبدیلی
علی گڑھ، 17 اپریل (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سنی تھیالوجی شعبہ کے تحت 10 اپریل کو منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار “بقائے باہم اور مذاہب عالم” سے جڑا تنازعہ اب انتظامی تبدیلی تک پہنچ گیا ہے۔ سیمینار میں مدعو بعض مقررین کو لے کر اٹھے اعتراضات کے بعد یونیورسٹی میں مختلف سطحوں پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس سیمینار میں مختلف مذاہب اور نظریات سے وابستہ مقررین کو مدعو کیا گیا تھا، جن میں رام پنیانی کا نام بھی شامل تھا۔ کچھ مقررین پر اعتراض کیے جانے کے بعد معاملہ اعلیٰ سطح تک پہنچا، جس کے نتیجے میں متعلقہ مقرر کا پروگرام منسوخ کر دیا گیا اور سیمینار متاثر ہوا۔ تنازعہ بڑھنے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے اس سیمینار سے خود کو الگ کر لیا، جس کے باعث پروگرام توقع کے مطابق کامیاب نہ ہو سکا اور شرکاء کی تعداد بھی کم رہی۔ اس پورے معاملے کے بعد اب انتظامی سطح پر تبدیلی سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق سیمینار میں دعوتی عمل سے وابستہ پروفیسر سعود عالم قاسمی سے‘تہذیب الاخلاق’ کا چارج واپس لے لیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ اسی دوران سنی تھیالوجی شعبہ کے پروفیسر توقیر عالم کو ‘تہذیب الاخلاق’ اور‘نشاط’ کا نیا مدیر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی تقرری دو سال کے لیے یا آئندہ حکم تک مؤثر رہے گی۔
پروفیسر توقیر عالم اسلامیات اور عربی علوم کے ممتاز اسکالر ہیں اور انہیں تدریس و تحقیق کا تین دہائیوں سے زائد تجربہ حاصل ہے۔ وہ شعبہ کے صدر، فیکلٹی آف تھیالوجی کے ڈین سمیت کئی اہم انتظامی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اکیڈمک کونسل، ایگزیکٹو کونسل اور یونیورسٹی کورٹ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے 200 سے زائد تحقیقی مقالے شائع کیے ہیں اور اس وقت سہ ماہی جریدہ‘فکر و نظر’کے مدیر بھی ہیں۔فی الحال اس پورے معاملے اور اس کے بعد ہونے والی اس تبدیلی کو لے کر یونیورسٹی کیمپس میں بحث و مباحثہ جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ