سیدھی میں صحت کے نظام پر سوالات، اسکوٹی پر لے جانی پڑی لاش، اسپتال میں علاج نہیں ملنے کا الزام، ویڈیو وائرل
سیدھی، 16 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے سیدھی ضلع کے سیمریا کمیونٹی ہیلتھ سینٹر سے ایک انتہائی بے حسی کی تصویر سامنے آئی ہے۔ یہاں علاج نہیں ملنے کے باعث ایک شخص کی موت کے بعد اہل خانہ کو لاش اسکوٹی پر لے جانے پر مجبور ہونا پڑا۔ واقعے کا ویڈیو سامنے
اسکوٹی پر لاش لیکر جاتے ہوئے رشتہ دار


سیدھی، 16 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے سیدھی ضلع کے سیمریا کمیونٹی ہیلتھ سینٹر سے ایک انتہائی بے حسی کی تصویر سامنے آئی ہے۔ یہاں علاج نہیں ملنے کے باعث ایک شخص کی موت کے بعد اہل خانہ کو لاش اسکوٹی پر لے جانے پر مجبور ہونا پڑا۔ واقعے کا ویڈیو سامنے آنے کے بعد نظامِ صحت پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

معلومات کے مطابق، 50 سالہ رام سجیون گپتا کی طبیعت بدھ کی رات تقریباً 11 بجے اچانک خراب ہو گئی تھی۔ اہل خانہ انہیں فوری طور پر اسپتال لے کر پہنچے، لیکن الزام ہے کہ وہاں نہ تو ڈاکٹر موجود تھے اور نہ ہی کوئی ذمہ دار عملہ۔ اہل خانہ مدد کے لیے بھٹکتے رہے، لیکن بروقت علاج نہ مل سکا اور آخر کار ان کی موت ہو گئی۔

موت کے بعد بھی خاندان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ لواحقین کا الزام ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے نہ ہی ایمبولینس فراہم کی اور نہ ہی میت گاڑی (شو واہن) کا انتظام کیا۔ مجبوراً اہل خانہ رام سجیون گپتا کی لاش اسکوٹی پر رکھ کر گھر لے گئے۔ اس دوران اسپتال کے گیٹ پر موجود خواتین روتی بلکتی نظر آئیں، جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔

متوفی کے بیٹے سنجیو گپتا نے الزام لگایا کہ واقعے کے وقت ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹر سنجے پٹیل اسپتال میں موجود نہیں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر ڈاکٹر مل جاتے، تو ان کے والد کی جان بچ سکتی تھی۔ انہوں نے اسپتال انتظامیہ پر لاپرواہی اور بے حسی کے الزامات لگائے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اکثر اسپتال میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے مریضوں کو بروقت علاج نہیں مل پاتا۔

دوسری جانب، ڈیوٹی ڈاکٹر سنجے پٹیل نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت کھانا کھانے اپنے کمرے میں گئے تھے اور انہیں اس واقعے کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande