
ناسک، ممبئی ، 16 اپریل (ہ س) مہاراشٹر کے ناسک شہر میں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) کی ایچ آر منیجر ندا اعجاز خان گزشتہ تقریباً 20 دنوں سے پولیس کی گرفت سے باہر ہے، جس کے باعث مبینہ مذہب تبدیلی اور جنسی استحصال کے معاملے میں تحقیقات مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق اس معاملے میں اب تک 9 ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں جبکہ 8 افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ ندا خان کو اس کیس کا مرکزی ملزم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم وہ واقعہ سامنے آنے کے بعد سے ہی مفرور ہے اور پولیس کو اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ ندا خان، جو ایک عام مسلم خاندان سے تعلق رکھتی ہے، ٹی سی ایس میں منیجر اور ٹیم لیڈر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ الزام ہے کہ روزمرہ میٹنگز کے دوران ہندو خواتین کو ذہنی طور پر ہراساں کرنا اور ان پر مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ ڈالنا اس کے مبینہ کردار کا حصہ تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس میں ہندو خواتین کے ساتھ ذہنی استحصال اور جنسی زیادتی جیسے سنگین الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جن کے پیچھے مبینہ طور پر مذہب تبدیلی کا مقصد کارفرما بتایا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں بین الاقوامی نیٹ ورک کی شمولیت کا بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق ندا اعجاز خان کی عمر 26 سال ہے اور وہ 2021 سے کمپنی میں خدمات انجام دے رہی تھی۔ اس کا تعلق ناسک کے دوارکا علاقے سے ہے، جبکہ اس کا شوہر ایک نجی کمپنی میں ملازم ہے۔
یہ بھی الزام ہے کہ کمپنی میں کام کرنے والے کچھ مسلم نوجوانوں کے ساتھ مل کر ہندو خواتین کو محبت کے جال میں پھنسانے میں اس کا اہم کردار تھا اور وہ دیگر ملزمان کی مدد کرتی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ایسے معاملات میں 78 شکایات سامنے آئی ہیں، تاہم ایچ آر منیجر ہونے کے باوجود اس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔
ادھر کمپنی کے کچھ ملازمین نے اعلیٰ انتظامیہ پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر کارروائی کسی ایک فرد کے بس کی بات نہیں۔ الزام یہ بھی ہے کہ معاملے کو دبانے کے لیے ناسک برانچ کے تقریباً 150 ملازمین کو 13 اپریل سے گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
قومی کمیشن برائے خواتین کی ٹیم 18 اپریل کو ناسک کا دورہ کرنے والی ہے، جس سے قبل اس کیس میں مزید انکشافات متوقع ہیں۔
پولیس کے مطابق ندا خان کی گرفتاری کے بغیر اس پورے معاملے کی حقیقت سامنے آنا مشکل ہے۔ فی الحال پولیس کی تین ٹیمیں اس کی تلاش میں مصروف ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد ہی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے