پی ایس جی نے اینفیلڈ میں لیورپول کو شکست دے کر چیمپئنز لیگ کے سیمی فائنل میں رسائی حاصل کی
لیورپول، 15 اپریل (ہ س)۔ پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی ) نے شاندار کارکردگی پیش کرتے ہوئے لیورپول کو اینفیلڈ میں 2-0 سے شکست دے کر یو ای ایف اے چیمپئنز لیگ کے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔ اس جیت کے ساتھ ہی پی ایس جی نے دو میچوں کے مجموعی اسکو میں 4-0 سے
Sports-Football-PSG-Liverpool-ChampionsLeague-


لیورپول، 15 اپریل (ہ س)۔ پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی ) نے شاندار کارکردگی پیش کرتے ہوئے لیورپول کو اینفیلڈ میں 2-0 سے شکست دے کر یو ای ایف اے چیمپئنز لیگ کے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔ اس جیت کے ساتھ ہی پی ایس جی نے دو میچوں کے مجموعی اسکو میں 4-0 سے مقابلہ پنے نام کر لیا۔

دفاعی چیمپئن پی ایس جی اب مسلسل دوسرا خطاب جیتنے کےقریب پہنچ گئی ہے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ،تو وہ جدید دور میں ریال میڈرڈ کے بعد یہ کارنامہ انجام دینے والا دوسرا کلب بن جائے گا۔

بیلن ڈی آر کے فاتح عثمان ڈیمبیلے نے دوسرے ہاف میں دو گول کر کے لیورپول کی واپسی کی امیدوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ ان کا پہلا گول 72ویں منٹ میں اس وقت آیا جب انہوں نے باکس کے باہر سے درست شاٹ لگا کر گیند کو نیٹ میں پہنچا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے انجری ٹائم میں دوسرا گول کر کے ٹیم کی جیت پر مہر ثبت کر دی۔

پی ایس جی کے کوچ لوئس اینریک نے میچ کے بعد کہا کہ”'چیمپیئنز لیگ خطاب کا دفاع کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن ہم پھر سے یہاں ہیں اور ہمیں اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا۔“

اس جیت کے ساتھ اب پی ایس جی کا سیمی فائنل میں بائرن میونخ یا ریال میڈرڈ سے مقابلہ ہوگا۔

لیورپول نے میچ میں واپسی کی ضرور کوشش کی۔ پہلے ہاف میں ورجل وین ڈائک کا آسان موقع پی ایس جی کے کپتان مارکنہوس کے شانداردفاع کے سبب گول میں تبدیل نہیں ہو سکا۔

دوسرے ہاف میں لیورپول کو بھی پنالٹی کا موقع ملا جب الیکسس میک الیسٹر کے خلاف فاو¿ل دیا گیا، لیکن ریفری نے ویڈیو ریویو کے بعد اپنا فیصلہ بدل دیا، جس سے ہوم ٹیم کی امیدوں کو دھچکا لگا۔

لیورپول کے کوچ آرنے سلاٹ نے کہا، ”ہم مایوس ہیں کیونکہ دوسرے ہاف میں ایسا لگ رہا تھا کہ ہماری طرف سے ایک گول میچ کا رخ بدل سکتا ہے۔ لیکن ہماری ٹیم کا مستقبل روشن ہے اور ہم نے دکھایا ہے کہ ہم یورپی چیمپئن کو سخت مقابلہ دے سکتے ہیں۔“

پی ایس جی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ اس وقت یورپ کی مضبوط ترین ٹیموں میں سے ایک ہے اور اب ان کی نظریں مسلسل دوسرے خطاب پر ہیں۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande