ہرمز کی ناکہ بندی کا اثر، ایران کا رویہ نرم پڑا، امریکہ بھی پسیجا، پرسوں شروع ہو سکتی ہے بات چیت
واشنگٹن، 14 اپریل (ہ س)۔ امریکی بحریہ کی آبنائے ہرمز سمیت ایران کی تمام بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اثر نظر آنے لگا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کے سلسلے میں اسلام آباد میں ہوئی امن بات چیت کے ناکام ہونے پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سخت ف
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں۔ انہوں نے ہفتہ وار تعطیل (ویک اینڈ) کے دوران پاکستان کی بالواسطہ ثالثی میں ہونے والی بات چیت میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی۔ فوٹو: انٹرنیٹ میڈیا


واشنگٹن، 14 اپریل (ہ س)۔ امریکی بحریہ کی آبنائے ہرمز سمیت ایران کی تمام بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اثر نظر آنے لگا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کے سلسلے میں اسلام آباد میں ہوئی امن بات چیت کے ناکام ہونے پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سخت فیصلہ لیا۔ انہوں نے ایران کی تمام بندرگاہوں پر ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر اس علاقے میں کوئی بھی ایرانی جہاز قریب آیا تو اسے سمندر میں ڈبو دیا جائے گا۔ امریکی حکام کے مطابق، اپنی ضد پربضد ایران کا رویہ نرم پڑا ہے۔ اس سے ٹرمپ بھی خوش ہیں۔ اب دونوں ممالک کے وفود کے درمیان پرسوں (جمعرات) بات چیت ہو سکتی ہے۔

الجزیرہ اور فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے بات چیت کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا کہ گیند اب ایران کے پالے میں ہے۔ اب یقینی طور پر کوئی بڑا معاہدہ ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد میں امریکہ نے ایران کو 20 سال کے لیے یورینیم کی افزودگی پر روک لگانے کی تجویز دی تھی۔ اس کے جواب میں پیر کو ایران نے ایک جوابی تجویز پیش کی۔ اس میں اس نے کہا کہ وہ 20 سال نہیں بلکہ پانچ سال کی تجویز ماننے کو تیار ہے۔

امریکی ناکہ بندی اگر جاری رہی تو حالات خراب ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ثالث ممالک نے دوبارہ کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ثالث ممالک میں سے ایک کے سفارت کار نے کہا کہ جنگ بندی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جمعرات کو دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ اس معاملے سے منسلک افسران کا کہنا ہے کہ بات چیت کا مقصد 21 اپریل کو جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے مفاہمت کرانا ہے۔

اس سفارت کار نے بتایا کہ تہران اور واشنگٹن بات چیت کرنے کے لیے اصولی طور پر متفق ہو گئے ہیں۔ مگر یہ واضح نہیں ہے کہ بات چیت میں اسی سطح کا وفد شامل ہوگا یا نہیں۔ افسران نے بتایا کہ پاکستان کو دوبارہ ممکنہ میزبان کے طور پر زیرِ غور رکھا گیا ہے، جبکہ جنیوا کے نام پر بھی تبادلہ خیال چل رہا ہے۔

نائب صدر وینس نے پیر کو کہا کہ اسلام آباد میں ایران کے ساتھ بات چیت ختم ہونے کے بعد سے گیند ایران کے پالے میں ہے۔ اگلا قدم اب تہران کو اٹھانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی وفد بات چیت سے اس لیے ہٹا، کیونکہ ایرانی مذاکرات کاروں کے پاس کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کا اختیار نہیں تھا۔ اب کوئی بھی پیش رفت تہران کی قیادت کی منظوری پر منحصر ہوگی۔

وینس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ معمول کے تعلقات رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’امریکہ کے صدر نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ ایک عام ملک جیسا برتاو ہو، اگر اس کی معیشت معمول پر ہو اور اگر اس کے لوگ خوشحال اور مستحکم ہو سکیں، تو انہیں بہت خوشی ہوگی۔‘‘ ٹرمپ نے یہ بھی کہا، ’’ایران کو عام ملک بننے کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانے کا خواب ترک کرنا ہوگا۔‘‘ ادھر، برطانیہ کے نائب وزیراعظم ڈیوڈ لیمی نے منگل کو واشنگٹن میں نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے کہا کہ ایران میں جنگ بندی کو جاری رکھنا بے حد ضروری ہے۔

روس نے بھی اس معاملے میں دلچسپی دکھائی ہے۔ کریملن نے پیر کو کہا کہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حصے کے طور پر ایران کے افزودہ یورینیم کو قبول کرنے کی روس کی تجویز ابھی بھی کھلی ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا، ’’یہ تجویز صدر پوتن نے امریکہ اور علاقائی ممالک، دونوں کے ساتھ بات چیت میں رکھی تھی۔ یہ تجویز ابھی بھی قائم ہے، لیکن اس پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔‘‘

خبر یہ بھی ہے کہ امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور لبنان میں امریکی سفیر منگل کو واشنگٹن میں اسرائیلی اور لبنانی سفیروں کے ساتھ بات چیت کے لیے ملنے والے ہیں۔ محکمہ خارجہ کے ایک افسر نے پیر کو یہ اطلاع دی۔

افسر نے کہا کہ یہ 1993 کے بعد سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان اس طرح کی پہلی میٹنگ ہوگی۔ حالیہ ہفتوں میں اس خطے میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔ 28 فروری کو ایران پر امریکہ-اسرائیل کے حملوں کے بعد حزب اللہ نے ایران کا ساتھ دیتے ہوئے اسرائیل پر میزائل حملے کیے ہیں۔ افسر نے یہ بھی تصدیق کی کہ محکمہ خارجہ کے کونسلر مائیکل نیدھم ان مباحثوں میں شامل ہوں گے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande