
واشنگٹن، 14 اپریل (ہ س)۔ ڈیموکرٹک نمائندہ ایرک سوالویل نے پیر کو کہا کہ وہ کانگریس سے استعفیٰ دیں گے۔ ان پر کئی خواتین نے جنسی ہراسانی اور دیگر بدسلوکی کے الزامات لگائے ہیں۔ وہ کیلیفورنیا کے 14 ویں حلقہ انتخاب سے امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے اور دیگر ارکان کو فوری طور پر نکالنے کا عمل چل رہا ہے۔ الزامات لگنے کے محض چند دنوں میں برطرف کرنا غلط ہے۔ اس کے باوجود میں نے اخلاقی بنیادوں پر کانگریس سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، استعفیٰ دینے کے فیصلے کے اعلان کے ساتھ ہی سوالویل کا سیاسی کیریئر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ تقریباً چار خواتین نے ان پر جنسی بدسلوکی کے الزامات لگائے۔ ان الزامات میں عصمت دری، نازیبا پیغامات اور برہنہ تصاویر بھیجنا شامل ہے۔ اس کانگریسی رہنما نے اتوار کو کیلیفورنیا کے گورنر کے عہدے کے لیے اپنی انتخابی مہم بھی ختم کر دی۔
اپنے استعفیٰ کے اعلان میں سوالویل نے ماضی میں فیصلے لینے میں ہونے والی غلطیوں کے لیے معافی مانگی، ساتھ ہی الزامات کا سامنا کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ ایک متاثرہ خاتون کے بارے میں گزشتہ جمعہ کو ’سان فرانسسکو کرونیکل‘ میں شائع رپورٹ سے دلبرداشتہ سوالویل نے کہا، ’’پھر بھی میں نے جو غلطیاں کی ہیں، ان کے لیے مجھے ذمہ داری لینی ہوگی اور انہیں قبول کرنا ہوگا۔‘‘
خاتون نے سوالویل پر الزام لگایا کہ 2019 اور 2024 میں وہ بہت زیادہ نشے کی حالت میں تھی اور رضامندی دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھی۔ تب سوالویل نے اس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے۔ اس کے بعد تین دیگر خواتین نے بھی سوالویل کی مبینہ جنسی بدسلوکی کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔
دو فریقی ’ہاوس ایتھکس کمیٹی‘ نے سوالویل کے استعفیٰ کے اعلان سے پہلے کہا تھا کہ وہ ان کے خلاف جانچ کر رہی ہے۔ سوالویل کے استعفیٰ کے ساتھ ہی یہ جانچ بند ہو جائے گی۔ ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب الزامات سامنے آنے کے بعد کانگریس میں ان کے کچھ قریبی ساتھیوں نے بھی ان سے دوری اختیار کر لی ہے۔ سوالویل کے قریبی ایریزونا کے ڈیموکرٹک سینیٹر روبن گیلیگو نے کہا کہ انہیں برطرف کر دیا جانا چاہیے۔ گیلیگو نے کہا، ’’میں نے جس شخص پر بھروسہ کیا، جسے دوست مانا، وہ برا آدمی نکلا۔‘‘
سوالویل نے اپنے استعفیٰ کی کوئی تاریخ نہیں بتائی ہے۔ یہ قابلِ ذکر ہے کہ ہاوس نے اپنی تاریخ میں اب تک صرف چھ ارکان کو باہر نکالا ہے۔ فلوریڈا کی ریپبلکن رکنِ پارلیمنٹ انا پولینا لونا نے کہا کہ سوالویل کا استعفیٰ دینے کا فیصلہ درست ہے، لیکن مجرمانہ جانچ کی ضرورت برقرار ہے۔ مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر نے اتوار کو کہا تھا کہ وہ سوالویل کے خلاف لگے الزامات کی تحقیقات کر رہا ہے۔
ایرک سوالویل ایک نمایاں سیاست داں ہیں۔ وہ 2013 سے امریکی کانگریس کے رکن ہیں (پہلے 15 ویں اور اب 14 ویں حلقے سے)۔ انہوں نے ہاوس انٹیلی جنس، جوڈیشری اور ہوم لینڈ سیکورٹی کمیٹیوں میں کام کیا ہے۔ وہ ڈونالڈ ٹرمپ کے پہلے اور دوسرے مواخذے (امپیچمنٹ) کی تحقیقات میں سرگرم کردار ادا کر چکے ہیں۔ وہ 2020 میں صدارتی عہدے کے لیے ڈیموکرٹک امیدوار کے طور پر بھی میدان میں اترے تھے۔ آئیووا میں 16 نومبر 1980 کو پیدا ہونے والے ایرک سابق پراسیکیوٹر (سرکاری وکیل) ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن