
ممبئی، 12 اپریل (ہ س)۔ ہندوستانی موسیقی کی دنیا کی عظیم پلے بیک گلوکارہ آشا بھوسلے کا 92 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ انہوں نے اتوار کو ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں آخری سانس لی۔ طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں ہفتہ کو وہاں داخل کرایا گیا تھا ، جہاں ایمرجنسی میڈیکل سروسز یونٹ میں ان کا علاج چل رہا تھا۔
دنیا بھر میں مداح آشا بھوسلے کی صحت یابی کے لیے دعائیں کر رہے تھے لیکن یہ جادوئی آواز آج ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی۔ اس خبر کی تصدیق ان کے بیٹے آنند بھوسلے نے کی۔انتہائی تھکاوٹ اور سینے میں انفیکشن کی شکایت کے بعد انہیں بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کی پوتی جنائی بھوسلے نے پہلے ہی سوشل میڈیا پر ان کی صحت کی تازہ ترین معلومات شیئر کی تھیں اور رازداری کی درخواست کی تھی۔ جیسے ہی ان کے اسپتال میں داخل ہونے کی خبر آئی ، مداحوں کی بڑی تعداد اسپتال اور ان کے گھر کے باہر جمع ہونا شروع ہوگئی۔ سبھی کو امید تھی کہ آشا بھوسلے جلد صحت یاب ہو جائیں گی، لیکن وہ امیدیں ٹوٹ گئیں۔
اہل خانہ کے مطابق آشا بھوسلے کی آخری رسومات پیر کو ادا کی جائیں گی۔ ان کے جسد خاکی کو صبح 11 بجے لوئر پریل میں واقع ان کی رہائش گاہ پر عوام کے دیدار کے لیے رکھا گیا، اس کے بعد شام 4 بجے ممبئی کے دادر میں شیواجی پارک میںان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں ان کی بہن عظیم گلوکارہ لتا منگیشکر کی بھی آخری رسومات ہوئی تھیں۔
8 ستمبر 1933 کو پیدا ہونے والی آشا بھوسلے نے سات دہائیوں پر محیط کریئر میں ہزاروں گانے گائے اور ہندوستانی سنیما میں انمول شراکت کی۔ ان کے والد، پنڈت دینا ناتھ منگیشکر، ایک مشہور گلوکار اور اداکار تھے۔ آشا نے بہت چھوٹی عمر میں ہی موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا، مراٹھی فلم ”ماجھا بال“ سے اپنے کریئر کی شروعات کی۔ اس کے بعد انہوں نے خود کو ہندی سنیما میں ”ساون آیا“ جیسے گانوں کے ساتھ قائم کیا، جو تیزی سے موسیقی کی دنیا کی سب سے قابل احترام شخصیات میں سے ایک بن گئیں۔ ان کے انتقال سے ہندوستانی موسیقی کی دنیا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد