مرکزی وزیر زراعت شیوراج نے انت کرشی مہوتسو میں ایم پی کے چار اضلاع کا زرعی روڈ میپ جاری کیا
انٹیگریٹڈ فارمنگ ماڈل کا مشاہدہ کر کے کسانوں سے خطاب کیا بھوپال، 12 اپریل (ہ س)۔ مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے مدھیہ پردیش کے رائسین میں منعقدہ ’انت کرشی‘ مہوتسو کے دوسرے دن اتوار کو کسانوں کو ایک بڑی سوغات دیتے ہوئے ریاست کے چار اضلاع - س
مرکزی وزیر زراعت شیوراج نے ’انت کرشی‘ مہوتسو میں ایم پی کے چار اضلاع کا زرعی روڈ میپ جاری کیا


انٹیگریٹڈ فارمنگ ماڈل کا مشاہدہ کر کے کسانوں سے خطاب کیا

بھوپال، 12 اپریل (ہ س)۔ مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے مدھیہ پردیش کے رائسین میں منعقدہ ’انت کرشی‘ مہوتسو کے دوسرے دن اتوار کو کسانوں کو ایک بڑی سوغات دیتے ہوئے ریاست کے چار اضلاع - سیہور، رائسین، ودیشا اور دیواس کا ہمہ جہت زرعی روڈ میپ جاری کیا۔ ساتھ ہی اس موقع پر انہوں نے جدید زراعت کو فروغ دینے کے مقصد سے انٹیگریٹڈ فارمنگ ماڈل کا معائنہ بھی کیا۔

مرکزی وزیر چوہان نے مہوتسو میں فصل بیمہ یوجنا اور انٹیگریٹڈ فارمنگ پر منعقدہ خصوصی سیشن کے دوران کسانوں سے براہِ راست خطاب کر کے ان کے مسائل سنے اور سائنسدانوں، ماہرین کے ساتھ ان کے حل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ زراعت کو منافع بخش بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز، متنوع فصلوں اور مربوط کاشتکاری کے طریقوں کو اپنانا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان روایتی کاشتکاری کے ساتھ ساتھ مویشی پروری، باغبانی، شہد کی مکھیوں کی پرورش اور نامیاتی کھیتی کو بھی اپنائیں، تاکہ کم لاگت میں زیادہ منافع حاصل ہو سکے۔ حکومت کی اسکیموں کا فائدہ آخری سرے پر بیٹھے کسان تک پہنچے، اس کے لیے ہر سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اس موقع پر پنچایت اور دیہی ترقی کے وزیر پرہلاد پٹیل، وزیر زراعت ایدل سنگھ کنسانا، وزیر مملکت برائے صحت نریندر شیواجی پٹیل، رکن اسمبلی ڈاکٹر پربھورام چودھری سمیت دیگر ارکان اسمبلی، مقامی عوامی نمائندے اور سینئر افسران موجود تھے۔

مرکزی وزیر زراعت چوہان نے کہا کہ ’انت کرشی‘ مہوتسو کا یہ انعقاد محض ایک رسمی پروگرام نہیں ہے، بلکہ ملک کے زرعی نظام میں بہتری لانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ آج ودیشا، رائسین، سیہور اور دیواس اضلاع کے لیے زرعی ترقی کا روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔ آگے مدھیہ پردیش کے تمام اضلاع کے لیے اسی طرح کا منصوبہ بنایا جائے گا۔ ان منصوبوں کو صرف کاغذوں تک محدود نہیں رکھا جائے گا، بلکہ انہیں زمین پر نافذ کیا جائے گا۔ مرکز اور ریاستی حکومت کی مختلف اسکیموں کے تال میل سے کسانوں کو اس کا فائدہ پہنچایا جائے گا، تاکہ کھیتی کو زیادہ منافع بخش اور پائیدار بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں زراعت کی سمت بدلنے اور کھیتی کو زیادہ منافع بخش بنانے کے لیے مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔ مہوتسو میں کسانوں کو عملی اور سائنسی معلومات دی جا رہی ہیں۔ مختلف سیشنز کے ذریعے کھیتی کے مختلف پہلوؤں کو سادہ طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ کسان اپنی فصلوں اور پیداواری نظام کو بہتر بنا سکیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کسان اپنی مٹی، آب و ہوا، پانی کی دستیابی اور وسائل کی بنیاد پر سائنسی طریقے سے کھیتی کریں۔ صرف پیداوار بڑھانے پر نہیں، بلکہ صحیح فصل اور پائیدار کھیتی پر توجہ دینا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمہ جہت زرعی روڈ میپ کا مقصد کھیتی کو زیادہ منافع بخش بنانا، پانی کے موثر استعمال کو فروغ دینا اور دستیاب وسائل کے بہتر استعمال سے پیداوار بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا فوکس موسمیاتی تبدیلیوں کو برداشت کرنے والی کھیتی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، کسانوں کی آمدنی بڑھانا، تحفظِ آب، فصلوں کے تنوع اور مارکیٹ سے بہتر روابط کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے تحت بلاک کی سطح پر مقامِ مخصوص (لوکیشن اسپیسیفک) ایکشن پلان تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ مقامی ضروریات کے مطابق زراعت کو ترقی دی جا سکے۔ ساتھ ہی روایتی فصلوں جیسے گیہوں، دھان اور سویا بین پر انحصار کم کر کے متبادل فصلوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹ پر مبنی زرعی نظام تیار کرنے پر بھی زور دینا پڑے گا۔

مرکزی وزیر زراعت نے کہا کہ رائسین، ودیشا، سیہور اور دیواس اضلاع میں آبپاشی کا بڑا حصہ زیرِ زمین پانی پر منحصر ہے، جبکہ کئی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح سنگین صورتحال تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ مٹی کی صحت کا کمزور ہونا اور ویلیو ایڈیشن کی کمی بھی اہم چیلنجز ہیں۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گیہوں کے علاوہ دیگر فصلوں کے امکانات پر بھی غور کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹماٹر، پیاز، لہسن، بھنڈی، شملہ مرچ جیسی سبزیوں کے ساتھ ساتھ یہاں انار جیسے پھلوں کے اچھے امکانات ہیں۔ اس کے علاوہ ڈریگن فروٹ اور ایوکاڈو جیسی زیادہ منافع دینے والی فصلوں کو بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ اگر سائنسی طریقے سے منصوبہ بندی کر کے فصلوں میں تنوع اور وسائل کا بہتر استعمال کیا جائے، تو خطے کے کسانوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

مرکزی وزیر نے کسانوں کو سائنسی کھیتی اپنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ محض علاقائی سطح کی معلومات کافی نہیں ہیں، بلکہ ہر کسان کو اپنے کھیت کی مٹی کی صحیح صورتحال جاننا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع اور بلاک کی سطح پر مٹی کی عمومی معلومات دی جاتی ہیں، لیکن حقیقی فائدہ تبھی ملے گا جب کسان اپنے کھیت کی مٹی کا ٹیسٹ کرا کر ’سوائل ہیلتھ کارڈ‘ بنوائیں۔ اس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ کس فصل کے لیے کون سے غذائی اجزاء ضروری ہیں۔ کسانوں کی سہولت کے لیے ایک نئی موبائل ایپ بھی لانچ کی گئی ہے، جس سے کھیتی کرنا اور آسان ہو گیا ہے۔ کسان اپنے موبائل میں ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے کھیت میں کھڑے ہو کر ہی یہ جان سکتے ہیں کہ کس فصل کے لیے کتنی مقدار میں کھاد اور فرٹیلائزر ڈالنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معلومات کے بغیر اندھا دھند کھاد کا استعمال نقصان دہ ہے۔ اس سے نہ صرف کسانوں کی لاگت بڑھتی ہے، بلکہ مٹی کی کوالٹی پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ سائنسی طریقے سے طے شدہ مقدار میں کھاد کا استعمال کرنے سے کسانوں کا مالی نقصان کم ہوگا اور زمین کی زرخیزی بھی برقرار رہے گی۔ اس کے لیے سوائل ہیلتھ کارڈ اور نئی ٹیکنالوجیز کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا ضروری ہے۔

مرکزی وزیر زراعت شیوراج نے کہا کہ پیداوار بڑھانے کے لیے اچھا بیج سب سے اہم بنیاد ہے۔ مختلف فصلوں، پھلوں اور سبزیوں کے ساتھ ساتھ نئے امکانات والی کھیتی جیسے ڈریگن فروٹ، ایوکاڈو اور بلیو بیری کو بھی روڈ میپ میں شامل کیا گیا ہے۔ ان نئی فصلوں کے بارے میں کسانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے معلومات دی جائیں گی اور انہیں تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔ یہ پہل صرف مہوتسو تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ کسانوں کو مسلسل رہنمائی اور تربیت دی جائے گی، تاکہ وہ نئی ٹیکنالوجیز اور فصلوں کو اپنا کر منافع کما سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر بلاک میں کچھ گاؤں کو ’بیج گرام‘ (سیڈ ولیج) کے طور پر ترقی دی جائے، جہاں اعلیٰ معیار کے بیجوں کی پیداوار کی جا سکے۔ آئی سی اے آر اس سمت میں پوری مدد کرے گا اور بریڈر سیڈ فراہم کرائے گا۔ اگر ہر بلاک میں تقریباً 10 گاؤں کو بیج گرام بنا کر کسانوں کو وہیں سے اچھے بیج دستیاب کرائے جائیں، تو اس سے پیداوار میں تقریباً 20 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ہی بیج گرام تیار کرنے کے لیے مرکز اور ریاستی حکومت کی اسکیموں کا استعمال کیا جائے گا۔ ’بیج اور پودوں کی فراہمی کے سب مشن‘ کے تحت ضروری مالی امداد بھی فراہم کی جائے گی، جس میں حکومت ہند اور مدھیہ پردیش حکومت مل کر تعاون کریں گی۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ اس اسکیم کے تحت ضروری ایکشن پلان تیار کر کے جلد از جلد اسے زمین پر نافذ کیا جائے، تاکہ کسانوں کو بہتر بیج دستیاب ہو سکے اور ان کی آمدنی میں اضافہ ہو۔

مرکزی وزیر چوہان نے کہا کہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور کھیتی کو زیادہ موثر بنانے کے لیے کسانوں کو اعلیٰ معیار کے اور بیماریوں سے پاک پودے فراہم کرنے کے لیے مرکزی حکومت ’کلین پلانٹ سینٹر‘ قائم کر رہی ہے، جس میں سے ایک مرکز مدھیہ پردیش میں بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نرسریوں کا قیام عمل میں لا کر کسانوں کو تصدیق شدہ اور تجربہ شدہ پودے فراہم کیے جائیں گے، تاکہ انہیں کسی قسم کی دھوکہ دہی یا نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کھیتی میں مشینوں کی دستیابی کو بھی بڑا چیلنج قرار دیا، انہوں نے کہا کہ ہر کسان مہنگی مشینیں خریدنے کی سکت نہیں رکھتا، جس سے وقت پر کھیتی کے کام متاثر ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے انہوں نے ’مشین بینک‘ اور کسٹم ہائرنگ سینٹر کے ماڈل کو فروغ دینے کی بات کہی۔ انہوں نے پنجاب کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں پنچایتوں کے ذریعے مشین بینک قائم کیے گئے ہیں، جہاں سے کسان مناسب کرائے پر مشینیں لے سکتے ہیں۔ اسی طرز پر مدھیہ پردیش میں بھی پنچایت کی سطح پر مشین بینک قائم کرنے اور ہر بلاک میں کم از کم پانچ کسٹم ہائرنگ سینٹر شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے سرپنچوں سے بھی اس پہل میں آگے آنے کی اپیل کی اور کہا کہ پنچایتیں خود مشین بینک قائم کر کے کسانوں کو سستی اور بروقت سہولیات فراہم کر سکتی ہیں۔ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم تبدیلی کی شروعات ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande