اسدالدین اویسی کا نیا سیاسی منصوبہ ، آسام میں بدرالدین اجمل اور بنگال میں ہمایوں کبیر سے گٹھ جوڑ
حیدرآباد ، یکم اپریل (ہ س) ۔ اسدالدین اویسی کی سیاست میں سرگرمی ایک بار پھرتیز ہوگئی ہے،خاص طور پربہاراسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد ان کے حوصلے کافی بلند دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار وہ مختلف ریاستوں میں اپنی سیاسی موجودگی درج کرانے
اسدالدین اویسی کا نیا سیاسی منصوبہ ، آسام میں بدرالدین اجمل اور بنگال میں ہمایوں کبیر سے گٹھ جوذ


حیدرآباد ، یکم اپریل (ہ س) ۔ اسدالدین اویسی کی سیاست میں سرگرمی ایک بار پھرتیز ہوگئی ہے،خاص طور پربہاراسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد ان کے حوصلے کافی بلند دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار وہ مختلف ریاستوں میں اپنی سیاسی موجودگی درج کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اویسی پراکثربی جے پی کی بی ٹیم ہونے کا الزام لگتا رہا ہے، لیکن وہ مسلسل یہ کہتے آئے ہیں کہ آئینِ ہند انہیں ہر جگہ الیکشن لڑنے کا حق دیتا ہے۔ موجودہ وقت میں اویسی مسلمانوں کی ایک بڑی آوازبن کر ابھرے ہیں، خاص طور پرنوجوانوں میں ان کی مقبولیت کافی زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔ بہارمیں ان کی پارٹی کے 5 ایم ایل ایز کی جیت نے ان کی پوزیشن کو مزید مضبوط کیا ہے۔ آسام میں اویسی نے ایک الگ حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ انہوں نے وہاں اپنا کوئی امیدوارکھڑا نہیں کیا، بلکہ بدرالدین اجمل کی حمایت میں بھرپورانتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ اجمل پہلے کانگریس اتحاد کا حصہ تھے اور16 سیٹیں جیت چکے تھے، لیکن اس بار کانگریس نے ان سے دوری اختیارکرلی ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اجمل کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ان کی سیاسی حیثیت کمزور ہوئی۔ اب وہ اپنی سیاسی زمین بچانے کے لیے اویسی کے ساتھ کھڑے ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ اویسی کی مقبولیت انہیں فائدہ پہنچائے گی۔ دوسری طرف مغربی بنگال میں اویسی، ہمایوں کبیرکے ساتھ مل کر میدان میں اتر رہے ہیں۔ بنگال میں مسلم ووٹ ہمیشہ سے فیصلہ کن رہا ہے، اسی لیے دونوں لیڈران نے اپنی توجہ خاص طور پران علاقوں پرمرکوز کی ہے جہاں اقلیتی ووٹرزکی تعداد زیادہ ہے، جیسے مالدا اورمرشدآباد۔ اطلاعات کے مطابق یہ اتحاد تقریباً 50 نشستوں پرالیکشن لڑنے کاارادہ رکھتا ہے۔ مرشدآباد میں 22 نشستیں ہیں، جہاں پچھلی بارزیادہ ترسیٹیں ترنمول کانگریس نے جیتی تھیں، جبکہ مالدا میں بھی ترنمول کا اثر و رسوخ رہا ہے۔ ایسے میں اگر ووٹوں کا تھوڑا بھی بٹوارہ ہوتا ہے تو اس کا سیدھا اثر ترنمول کانگریس پر پڑ سکتا ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق، اویسی کی یہ حکمتِ عملی ایک طرف انہیں نئی ریاستوں میں قدم جمانے میں مدد دے سکتی ہے، تو دوسری طرف ووٹوں کی تقسیم کے باعث کچھ جماعتوں کو نقصان اور کچھ کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ آنے والے انتخابات میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اوویسی کا یہ سیاسی داؤ کتنا کامیاب ہوتا ہے۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande