
کولکاتہ، 7 مارچ (ہ س)۔
صدرجمہوریہ دروپدی مرمو، جو 9ویں بین الاقوامی سنتال کانفرنس میں شرکت کے لیے شمالی بنگال کے سلی گڑی پہنچی ہیں، نے تقریب کے دوران مغربی بنگال حکومت کے انتظامات اور پروٹوکول سے ناراضگی کا اظہار کیا۔
اسٹیج سے اپنے خطاب میں، انہوں نے بالواسطہ طور پر ریاستی انتظامیہ کے کام کاج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد میں بے شمار رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جس سے منتظمین کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہفتہ کو باگڈوگرا ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد صدر جمہوریہ سیدھے گوسائی پور میں پروگرام کی جگہ گئیں اور پھر بدھ نگر میں منعقدہ اہم کانفرنس میں شرکت کی۔
اپنے خطاب میں، انہوں نے کہا کہ بیدھا نگر میں کافی جگہ کی دستیابی کے باوجود، سیکورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے ابتدائی طور پر کانفرنس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ نتیجتاً منتظمین کو چار مرتبہ پنڈال تبدیل کرنا پڑا جو کسی بھی بڑی ثقافتی اور سماجی تقریب کے لیے مناسب نہیں۔
صدر نے جذباتی طور پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں بہن اور خود کو بنگال کی بیٹی مانتی ہیں۔ اس کے باوجود اس طرح کی انتظامی رکاوٹوں کا پیدا ہونا انتہائی افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات کو حمایت اور حوصلہ افزائی ملنی چاہیے، کیونکہ یہ قبائلی برادری کی ثقافت، شناخت اور روایات کو مضبوط کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔
دریں اثنا، کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر دروپدی مرمو نے پنڈال کے انتظامات پر ہلکی ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سنتال کمیونٹی کے کئی افراد کو کانفرنس ہال کے باہرٹہلتے ہوئے دیکھا اور ایسا لگا جیسے انہیں اندر جانے سے روکا جا رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بڑے بین الاقوامی ایونٹ میں سنتال کمیونٹی کے تمام افراد کی کھلی شرکت کو یقینی بنانا چاہیے۔
اپنے خطاب میں، انہوں نے سنتال برادری کی بہادری کی روایت کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 240 سال قبل ان کے اجداد تلکا مانجھی نے جبر کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کیا تھا۔
صدر مرمو نے پروٹوکول کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ قواعد کے مطابق ملک کے صدر کی آمد پر ہوائی اڈے پر وزیر اعلیٰ یا ریاستی حکومت کے سینئر کابینہ وزیر کی موجودگی ضروری ہے۔ تاہم باگڈوگرا ہوائی اڈے پر ان کے استقبال کے لیے نہ تو وزیر اعلیٰ اور نہ ہی کوئی سینئر وزیر موجود تھا۔ صرف سلی گڑی کے میئر گوتم دیب موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ