
بھوپال، 07 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں اس سال مارچ کے آغاز سے ہی گرمی کا اثر تیز ہو گیا ہے۔ عام طور پر گزشتہ تقریباً 10 برسوں میں 15 مارچ کے بعد درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوتا تھا، لیکن اس بار ٹرینڈ بدل گیا ہے اور مہینے کے پہلے پکھواڑے (پندرہ دنوں) میں ہی پارہ تیزی سے چڑھنے لگا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، ریاست کے مشرقی حصے سے ایک ٹرف لائن گزر رہی ہے اور سائیکلونک سرکولیشن بھی فعال ہے، لیکن اس کا خاص اثر ریاست کے موسم پر نہیں پڑ رہا ہے۔ آسمان صاف رہنے کی وجہ سے سورج کی شعاعیں براہ راست زمین پر پڑ رہی ہیں، جس سے گرمی کا اثر بڑھ گیا ہے۔ ریاست کے ساگر اور گوالیار-چمبل ڈویژن کے بعد اب اندور اور اجین ڈویژن میں بھی گرمی کا اثر بڑھ گیا ہے۔ اندور میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36.2 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔ وہیں بھوپال، گوالیار، اجین اور جبل پور میں درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیس کو عبور کر گیا ہے۔
جمعہ کو نرمدا پورم ریاست کا سب سے گرم شہر رہا، جہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38.1 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔ اس کے علاوہ دھار، دموہ، ساگر، شاجاپور، گنا، چھترپور، رتلام اور ٹیگم گڑھ میں بھی درجہ حرارت 36 ڈگری یا اس سے زیادہ درج کیا گیا۔ رات کا درجہ حرارت بھی 18 ڈگری سیلسیس سے اوپر ہے۔
محکمہ موسمیات کا اندازہ ہے کہ اگلے دو دنوں میں ریاست کے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں تقریباً 4 ڈگری تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں امکان ہے کہ مارچ کے پہلے پکھواڑے میں ہی پارہ 40 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جائے۔ موسم سائنسدانوں کے مطابق اس سال اپریل اور مئی میں ہیٹ ویو یعنی ’لو‘ چلنے کا امکان ہے، جو تقریباً 15 سے 20 دنوں تک اثر دکھا سکتی ہے۔ حالانکہ مارچ میں فی الحال لو چلنے کی وارننگ نہیں دی گئی ہے، لیکن ابتدائی دنوں میں ہی درجہ حرارت میں تیزی درج کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن