
گاڑیوں کوفٹنس سرٹیفکیٹ اب کمپیوٹر دے گاحیدرآباد، 07 مارچ (ہ س)۔
تلنگانہ حکومت ریاست میں بڑھتی ہوئی آلودگی اورسڑک حادثات پر قابو پانے پرانی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ سڑکوں پر دوڑتی کھٹارا اور غیر معیاری گاڑیاں ماحولیاتی بگاڑ اور حادثات کی بڑی وجہ بن رہی ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے محکمہ ٹرانسپورٹ نے گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے روایتی طریقہ کار کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب مینول معائنے کے بجائے جدید ٹکنالوجی پر مبنی خودکار نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔ اس نئے منصوبہ کے تحت ریاست بھر میں 37 خودکار ٹسٹنگ اسٹیشنس قائم کئے جائیں گے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ ہر ضلع کے ہیڈ کوارٹر میں کم از کم ایک ایسا اسٹیشن موجود ہو جبکہ حیدرآباد میٹروپولیٹن ریجن میں گاڑیوں کی کثیر تعداد کے پیش نظراضافی مراکز قائم کیے جائیں گے۔ اس بڑے پروجکٹ کے لئے حکومت نے تقریباً 296 کروڑ روپے کے بھاری فنڈس منظورکئے ہیں اور محکمہ عمارات و شوارع کے زیرِ نگرانی جلد ہی ٹنڈرس کا عمل مکمل کر کے تعمیراتی کام شروع کردیا جائے گا۔ نئے نظام کے نفاذ کے بعد گاڑیوں کے لئے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا لیکن اس کا عمل پہلے سے مختلف ہوگا۔ اب تک موٹر وہیکل انسپکٹرس کے ذریعہ کیے جانے والے معائنے پرکئی سوالات اٹھتے رہے ہیں اور الزامات تھے کہ مکمل جانچ کے بغیر ہی سرٹیفکیٹ جاری کر دیے جاتے ہیں۔ اب گاڑی مالکان کو پہلے آن لائن فیس جمع کروا کرسلاٹ بک کرنا ہوگا جس کے بعد گاڑی کو ٹسٹنگ اسٹیشن لے جایا جائے گا۔ وہاں جدید ترین کمپیوٹرائزڈ مشینوں کے ذریعہ گاڑی کے ہر حصہ کی جانچ ہوگی اوراگرگاڑی تمام معیارات پر پوری اتری تو کمپیوٹر خود بخود فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کردے گا۔ اس سے نہ صرف انسانی مداخلت کم ہوگی بلکہ شفافیت میں اضافہ ہوگا اور سڑکوں پر صرف وہی گاڑیاں چل سکیں گی جو تکنیکی طور پر محفوظ اور ماحول دوست ہوں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق