جنگ طویل ہوئی تو تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے: قطر کے وزیر توانائی
ابوظہبی، 6 مارچ (ہ س)۔ قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جنگ کے درمیان توانائی کی عالمی منڈی پر بڑاخطرہ منڈلا رہاہے۔ اگر یہ تنازع جاری رہا تو تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ مسلسل لڑائی کی وجہ س
AMERICA-ISRAEL-IRAN-WAR-OIL-PRICE


ابوظہبی، 6 مارچ (ہ س)۔ قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جنگ کے درمیان توانائی کی عالمی منڈی پر بڑاخطرہ منڈلا رہاہے۔ اگر یہ تنازع جاری رہا تو تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ مسلسل لڑائی کی وجہ سے خلیجی توانائی کے برآمد کنندگان کو کچھ ہفتوں کے اندر پیداوار روکنی پڑ سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی ٹی وی چینل آئی 24 کی رپورٹ کے مطابق، قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی نے ابوظہبی انٹرنیشنل پیٹرولیم نمائش اور کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں کہا، ”مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ توانائی کی عالمی منڈی کو شدید طور پر متاثر کر سکتا ہے اور خام تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ اگر لڑائی جاری رہتی ہے تو خلیجی ممالک کے توانائی کی پیدا کرنے والوں کو کچھ ہی ہفتے میں توانائی روکنی پڑ سکتی ہے ، جس سے دنیا بھر کی معیشتوں پر بڑے اثرات مرتب ہوں گے ۔“

اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے وزیر سہیل المزروعی اور مصر کے پیٹرولیم اور معدنی وسائل کے وزیر کریم بداوی بھی موجود تھے۔ کابی نے یہ بھی خبردار کیا کہ تنازعہ عالمی معیشتوں کو تباہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی توانائی کے برآمد کنندگان خطے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے جلد ہی اپنے بین الاقوامی معاہدوں کو پورا کرنے سے قاصر ہو سکتے ہیں۔

یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے قطر کی سب سے بڑی مائع قدرتی گیس کی تنصیب راس لافن انڈسٹریل سٹی کو ڈرون حملے سے نشانہ بنایا۔ اس حملے کے بعد، قطر کو گیس کی ترسیل کے کچھ معاہدوں کو پورا کرنے سے عارضی طور پر روکتے ہوئے، ”غیر متوقع صورتحال“ کا اعلان کرنا پڑا۔ قطر اس وقت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ایل این جی پیدا کرنے والا ملک ہے۔

کابی نے کہا کہ یہاں تک کہ اگر لڑائی فوری طور پر ختم ہو جاتی ہے، تب بھی اس خلل کے بعد قطر کو گیس کی سپلائی معمول پر آنے میں”کئی ہفتوں سے مہینوں“ لگ سکتے ہیں۔ اس حملے نے پورے خلیجی خطے میں توانائی کے اہم انفراسٹرکچر کی حفاظت کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے میں توانائی کی سپلائی خطرے میں ہے۔

کابی کے مطابق، دیگر خلیجی برآمد کنندگان کو جلد ہی اسی طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگرچہ قطر اپنی گیس کا نسبتاً چھوٹا حصہ یورپ کو برآمد کرتا ہے، تاہم کابی نے خبردار کیا کہ اگر خلیج سے گیس کی سپلائی کم ہوتی ہے تو ایشیائی خریدار دستیاب گیس کے لیے یورپی صارفین سے زیادہ قیمت ادا کرنے کو تیار ہو سکتے ہیں۔ اس سے توانائی کی عالمی منڈی پر مزید دباو¿ پڑ سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande