عمر عبداللہ نے ایران کے ایک جنگی جہاز کے ڈوبنے کی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا۔
جموں, 05 مارچ (ہ س)جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو ایران کے ایک جنگی جہاز کے ڈوبنے کی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جہاز اور اس کا عملہ بھارت میں منعقد ہونے والی کثیر ملکی بحری مشق میں مہمان کے طور پر شریک تھے۔یہ ب
Omer


جموں, 05 مارچ (ہ س)جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو ایران کے ایک جنگی جہاز کے ڈوبنے کی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جہاز اور اس کا عملہ بھارت میں منعقد ہونے والی کثیر ملکی بحری مشق میں مہمان کے طور پر شریک تھے۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب مبینہ طور پر یو ایس کی ایک آبدوز نے بدھ کے روز سری لنکا کے ساحل کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنا کر ڈبو دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ جہاز بھارت کی میزبانی میں ہونے والی بحری مشق میں شرکت کے بعد واپس جا رہا تھا۔

جموں میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس واقعے پر تشویش پائی جا رہی ہے کیونکہ جموں و کشمیر کے کئی باشندے، جن میں طلبہ بھی شامل ہیں، اس وقت ایران میں مقیم ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ایرانی جنگی جہاز پر حملہ کیا گیا۔ وہ ہمارے مہمان تھے اور یہاں بحری مشق میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ واپسی کے دوران ان پر حملہ کیا گیا۔ کسی نہ کسی طرح ہمارا ملک بھی اس صورتحال میں گھسیٹا جا رہا ہے۔ آئندہ کیا ہوگا یہ میرے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت ایران میں موجود جموں و کشمیر کے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے اور انہیں بحفاظت واپس لانے کے لیے ایک پروگرام ترتیب دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بدلتی صورتحال کے پیش نظر جموں و کشمیر میں عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل بھی کی۔

انہوں نے بتایا کہ بدھ کو سری نگر میں سول سوسائٹی کے اراکین اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات بھی کی گئی تاکہ خطے میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر کو موقع نہیں دیا جانا چاہیے جو جموں و کشمیر کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے نتیش کمار کے راجیہ سبھا کے لیے نامزدگی داخل کرنے کے فیصلے کو بہار حکومت اور اس کے اتحادیوں کا اندرونی معاملہ قرار دیا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔نیپال میں عام انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جمہوریت کے صحیح طور پر چلنے کے لیے انتخابات ناگزیر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے پی اولی کی قیادت والی حکومت کے خاتمے کے بعد نیپال میں انتخابات کا انعقاد اہم پیش رفت ہے۔ ملک کے تمام 165 حلقوں میں سخت سیکورٹی کے درمیان ووٹنگ شروع ہو چکی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے زرعی شعبے میں کاروباری مواقع اور اختراع کو فروغ دینے کے حکومتی اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشن یوا جیسے فلیگ شپ پروگراموں کے تحت نوجوانوں میں اسٹارٹ اپ کلچر کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور تعلیمی اداروں کو اس مقصد کے لیے خاطر خواہ فنڈنگ فراہم کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande