مغربی ایشیا میں جنگ کے تھمنے کے کوئی آثار نہیں ، دونوں طرف سے ڈرون اور میزائل کے حملے تیز۔
واشنگٹن/تہران/تل ابیب، 4 مارچ (ہ س)۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ پانچویں دن بھی تھمنے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ دونوں طرف سے مسلسل حملے جاری ہیں۔ امریکہ ایرانی اہداف پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے بڑے حصوں میں شہریوں ک

attack


واشنگٹن/تہران/تل ابیب، 4 مارچ (ہ س)۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ پانچویں دن بھی تھمنے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ دونوں طرف سے مسلسل حملے جاری ہیں۔ امریکہ ایرانی اہداف پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے بڑے حصوں میں شہریوں کو انخلا کی تنبیہ کی ہے، جب کہ ایران نے خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ بگڑتی ہوئی صورتحال کے درمیان سعودی عرب اور کویت میں امریکی سفارت خانے بند کر دیے گئے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اور ڈرون حملہ سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو کی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی راس تنورا ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دو روز قبل ایران نے بھی اس پر حملہ کیا تھا۔ یہ ریفائنری سعودی عرب کی سب سے بڑی ریفائنری میں سے ایک ہے، جو روزانہ 550,000 بیرل سے زیادہ خام تیل کو صاف کرتی ہے۔

دریں اثناءاسرائیلی فوج نے ایران میں تازہ حملوں کی اطلاع دی۔ اس کے مطابق، ایرانی میزائل تنصیبات، آئی آر جی سی کے رضاکار نیم فوجی ونگ کے درجنوں اڈوں، بسیج اور داخلی سیکیورٹی کمانڈ کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ایف-35 لڑاکا طیارے نے تہران کے اوپر ایک روسی ساختہ ایرانی یاک-130 لڑاکا طیارے کو مار گرایا ہے۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں صبح سویرے اسرائیلی حملوں نے ہلچل مچا دی۔ اسرائیل نے جنوبی مضافاتی علاقوں میں کئی راو¿نڈ حملے کیے، رہائشی عمارتوں کو مسمار کیا اور ایک ہوٹل کو نقصان پہنچایا۔ دریں اثناءحزب اللہ نے لڑائی میں پہلی بار طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کیا۔ تل ابیب میں سائرن بجنے کے بعد شہری پناہ گاہوں کی طرف بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکا ایران میں اہداف پر چوبیس گھنٹے حملے کر رہا ہے۔ سو گھنٹے سے بھی کم عرصے میں تقریباً دو ہزار اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی بحریہ نے اپنی جدید ترین آبدوز سمیت 17 ایرانی جنگی جہازوں کو ڈبو دیا ہے۔ ایرانی بحریہ کا کوئی جہاز خلیج عرب، آبنائے ہرمز یا خلیج عمان میں کام نہیں کر رہا ہے۔

ایران کے جوابی حملوں کے بعد امریکہ نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات، اردن اور سعودی عرب سے چارٹر پروازوں کا استعمال کرتے ہوئے امریکیوں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، سفارت خانوں اور فضائی حدود کی بندش نے انخلاءکی کارروائی کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ایران نے بدھ کی صبح تقریباً 40 میزائل فائر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ قطر کی وزارت دفاع کے مطابق ایرانی بیلسٹک میزائل نے دوحہ کے قریب ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنایا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایک اور میزائل کو قطر کے فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی مار گرایا۔

کویتی فوج کے مطابق دشمن کے متعدد اہداف کو روکا گیا تاہم ملبہ رہائشی علاقوں پر گرا جس سے زخمی اور نقصان ہوا۔ سعودی عرب نے بھی مشرقی علاقے میں ڈرون مار گرائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

دریں اثناءایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سفارتی دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پیچیدہ جوہری مذاکرات کو رئیل اسٹیٹ ڈیل کی طرح برتاو¿ اور بڑا جھوٹ پھیلانا غیر حقیقی توقعات کو بڑھاتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے سپریم لیڈر مرحوم آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنا نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم اس کی باضابطہ تصدیق خامنہ ای کی تدفین کے بعد سامنے آئے گی۔ سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کا جلوس جنازہ آج مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے شروع ہوگا۔ تہران میں عوام کو تین دن تک ان کی آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت ہوگی۔ جنازے کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ جو بھی ایران کے نئے رہنما کے طور پر علی خامنہ ای کی جگہ لے گا اسے ختم کر دیا جائے گا۔ کاٹز نے یہ بھی کہا کہ نام یا مقام سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اسرائیل اسے ڈھونڈ لے گا۔

پورے مغربی ایشیا میں کشیدگی عروج پر ہے کیونکہ فضائی حملے اور میزائل حملے لگاتار پانچویں روز بھی جاری ہیں، ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر جلد ہی سفارتی حل نہ نکالا گیا تو تنازع پورے پیمانے پر علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande