
۔ رنگین ہواشہر ، روایتی فلمی ہولی کے گانوں کے ساتھ بھوجپوری گانوں کی بھی دھوم
وارانسی، 4 مارچ (ہ س)۔ رنگوں کا تہوار ہولی بدھ کو اتر پردیش کے شہر کاشی (وارنسی) میں بڑے جوش و خروش، دھوم دھام اور مستی کے ساتھ منایا گیا۔ دیہات سے لے کر شہروں تک ہر طرف ہولی کا جوش نظر آ رہا تھا۔
شہری علاقوں، محلوں اور کالونیوں میں گھروں میں اور گنگا کے کنارے لوگ رنگوں اور گلالوں میں پوری طرح بھیگتے نظر آئے۔ بھوجپوری گانوں کے ساتھ ساتھ لوگ روایتی فلمی ہولی کے گانوں…کھیلے رگھوویرا اودھ میں، رنگ برسے بھیگے چنر والی، سات رنگ میں کھیل رہی ہے دل والوں کی ٹولی رے … پر بڑی خوشی اور جوش کے ساتھ رقص کرتے رہے ۔ رنگوں کے عظیم تہوار پر شہر میں افراتفری کو روکنے کے لیے سکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔
تہوار کے موقع پر صبح سے ہی بچوں اور نوجوانوں کی ٹولی خوشیوں میں ڈوبی رہی۔رنگ اور بھنگ کی ترنگ کے درمیان جیسے جیسے سورج کی شعائیںبکھرتی گئیں، نوجوان اور بچے پچکاریاں لے کر ایک دوسرے پر رنگ ڈالنے کے لئے نکل پڑے۔ جگہ جگہ لوگوں نے ایک دوسرے کو رنگ اور گلا لگایا اور مبارکباد دی۔ ان کے چہرے اور جسم رنگوں میں اس قدر سرابور رہے کہ انہیں پہچاننا مشکل تھا۔
نوجوانوں کی ٹولیوں نے گودولیا چوراہا، لہورابیر، چیت گنج، سونار پورہ، لنکا، سگرا اور رتھ یاترا چوراہے پر اجتماعی ہولی کھیلی۔ اس دوران نوجوانوں نے ڈی جے میوزک کی تھاپ پر ہولی کے گانوں پر رقص کیا۔ گنگا کے گھاٹوں پرغیر ملکی شہری بھی ہولی کے خمار میں ڈوب کرمقامی نوجوانوں کے ساتھ ڈھول اور نگاڑوں کی تھاپ پر رقص کرتے ہوئے بنارسی رنگ میں ڈوبے نظر آئے۔ گھروں اور پوش کالونیوں میں خواتین نے بھی گروپس میں ہولی کھیلی اور ایک دوسرے کو مبارکباددی ۔
رنگ کھیلنے کے بعد لوگوں نے گھر گھر جا کر ایک دوسرے کو ہولی کی مبارکباد دی ۔ شہر میں کچھ جگہوں پر دہی ہانڈی اور مٹکا پھوڑ ہولی بھی کھیلی گئی۔ گودولیا چوراہے پر خواتین اور لڑکیاں بھی دو پہیہ گاڑیوں پر سوار ہوکر ہولی کے ہلڑسے لطف اندوز ہوتے ہوئی دیکھی گئیں۔ شہر بھر کے مختلف اپارٹمنٹس میں خواتین، بچوں اور مردوں کی ٹولیوں نے مل کر رنگوں کا تہوار منایا۔ کچھ سوسائیٹیوں نے تہوار کے دوران تفریحی کھیلوں کا اہتمام کیا۔
دوسری طرف، کاشی وشوناتھ مندر کے باقاعدہ عقیدت مندوں کے گروپ نے بابا کے ساتھ ہولی کھیلنے کی روایت پر عمل کیا۔ بابا کے عقیدت مندوں کا گروپ دشاسوامیدھ کے چترنجن پارک سے مندر کے لیے روانہ ہوا۔ کاشی وشواناتھ کے بعد، عقیدت مندوں کا گروپ انپورنا مندر گیا اور ماں کے دربار میں گلال پھینک کر ہولی کے گیت گائے۔ دوپہر کو نہانے کے بعد لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ کھانے سے لطف اندوز ہوئے، نئے کپڑے پہنے اور پھر عبیر گلال کے ساتھ دوستوں اور پڑوسیوں کے گھروں تک گئے۔ اس مناسبت سے شہر میں کئی مقامات پر ہولی ملن کی تقریبات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
سیکورٹی کے سخت انتظامات
شہر کے بڑے چوراہوں اور مخلوط آبادی والے علاقوں میں پولیس اہلکار مستعد رہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے پیش نظر مسلم اکثریتی علاقوں میں اضافی چوکسی ببرتی گئی۔ حساس مقامات پر پولیس اہلکار اور پی اے سی کے اہلکار خصوصی الرٹ رہے ۔اس دوران شہر میں کئی مقامات پر ہولی کے جلوسوں کی روایت دیکھی گئی۔ مقیم گنج، پرہلاد گھاٹ، گائیگھاٹ، کالبھیرو، وشویسور گنج، برہمنال، دشاشویدھ، سونار پورہ، اسی اور سندر پور علاقوں میں ہولی کے جلوس بڑے دھوم دھام سے نکالے گئے۔ ہولی کے جلوس والے ڈھول کی تھاپ پر ناچتے اور گاتے محلوں میں گھومتے رہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد