
ایران جنگ پر پہلے عوامی ردعمل میں ڈونالڈ ٹرمپ کا بڑا بیان، دہائیوں پرانے حملوں کا ذکر کیا
واشنگٹن، 04 مارچ (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کے روز پہلی بار عوامی طور پر میڈیا کے سوالوں کا سامنا کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جنگ اور وسیع علاقائی حالات پر کھل کر بات کی۔ وہ وائٹ ہاوس کے اوول آفس میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ موجود تھے، جہاں دونوں لیڈروں کی بند کمرے میں ملاقات سے پہلے یہ بات چیت ہوئی۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بات کو مسترد کر دیا کہ اسرائیل کے ایران پر حملے کے منصوبے نے انہیں ہفتہ کو فوجی کارروائی کرنے کے لیے اکسایا۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے انہوں نے ”اسرائیل کو قدم اٹھانے کے لیے مجبور کیا ہو۔“ ڈونالڈ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ امریکی فوجی کارروائی کے بعد ایران کی بحریہ، فضائیہ اور ریڈار کی صلاحیت ”تقریباً مکمل طور پر غیر فعال“ ہو چکی ہے۔
صدر نے اعتراف کیا کہ حملوں سے پہلے مڈل ایسٹ میں موجود امریکیوں کو نکالنے کا کوئی پہلے سے منصوبہ نہیں تھا۔ ان کا استدلال تھا کہ فوجی مہم اتنی تیزی سے آگے بڑھی کہ پہلے سے انخلا کا انتظام کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی میں پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانا غیر متوقع تھا۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے برطانیہ کی تنقید کرتے ہوئے اسے ”بہت، بہت غیر معاون“ قرار دیا اور چاگوس جزائر کی خودمختاری چھوڑنے کے فیصلے پر اختلاف دہرایا۔ ساتھ ہی انہوں نے اشارہ دیا کہ دفاعی پیداوار کو تیز کرنے کے لیے ہنگامی دفعات کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔
اپنے بیان میں ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی کو درست ثابت کرنے کے لیے 1979 کے ایرانی یرغمالی بحران اور 1983 میں بیروت میں واقع امریکی میرین بیرکوں پر حملے جیسے واقعات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران دہائیوں سے ”دہشت گردی کو فروغ دینے“ والا ملک رہا ہے اور ”کسی نہ کسی کو یہ قدم اٹھانا ہی تھا۔“
ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ فی الحال وہ ایران میں احتجاجی مظاہرے نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ ”وہاں حالات انتہائی خطرناک ہیں اور مسلسل بمباری ہو رہی ہے۔“ انہوں نے وارننگ دی کہ ایران کے لیے بدترین صورتحال تب ہوگی جب ”پچھلی قیادت جیسا ہی کوئی اور اقتدار میں آ جائے۔“
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن