علی گڑھ کے کالیجوں میں بڑھ رہی ہے شہ زوری ،طلبا میں خوف
علی گڑھ, 04 مارچ (ہ س)۔ سبھی دعوں اور بدنظمی کے باوجود شہرکے معروف دھرم سماج ڈگری کالج اور شری وارشنی ڈگری کالج میں کچھ طلباء کی شہ زوری اور بے ضابطگی ختم نہیں ہو رہی ہے۔ طلباء سے مارپیٹ اور ہنگامہ خیزی کی متعدد وارداتیں کبھی بھی پیش آ جاتی ہی
علی گڑھ کے کالیجوں میں بڑھ رہی ہے شہ زوری ،طلبا میں خوف


علی گڑھ, 04 مارچ (ہ س)۔

سبھی دعوں اور بدنظمی کے باوجود شہرکے معروف دھرم سماج ڈگری کالج اور شری وارشنی ڈگری کالج میں کچھ طلباء کی شہ زوری اور بے ضابطگی ختم نہیں ہو رہی ہے۔ طلباء سے مارپیٹ اور ہنگامہ خیزی کی متعدد وارداتیں کبھی بھی پیش آ جاتی ہیں۔ ہفتہ کو پیش آئے واقعہ نے ایک بار پھر کالیجوں کے انتظامی نظام کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کالیجوں میں بغیر ڈریس کوڈ کے داخلے اور باہر ی لوگوں کے آزادانہ آمد و رفت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔سماج دشمن عناصر کالیج کیمپس میں منڈلاتے رہتے ہیں ۔ پراکٹورئیل ٹیمیں مکمل طور پر غیر فعال ثابت ہوئی ہیں، جس نے دیگر طلباء میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے۔کالیجوں میں سخت انضباط نہ ہونے کے سبب طلباء گروہوں کے جھگڑے کیمپس سے نکل کر سڑک تک پہنچ رہے ہیں۔ اب تو مارپیٹ اور ہنگامہ تک محدود رہنے والے واقعات قتل تک پہنچ گئے، جس سے انتظامیہ کا ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے۔ انضباط قائم کرنے کے لیے دونوں کالیج میں پروکٹرئیل ٹیمیں قائم کی گئی ہیں، جنکی ذمہ داری ہے کہ وہ بغیر ڈریس کوڈ کے آنے والے طلباء کو داخلے سے روکیں،شہ زور طلباء اور باہر والوں پر سختی سے قابو پائیں،مگریہ کالیجوں میں نظر نہیں آتا۔ ہفتہ کی واقعہ کالیج کیمپس سے باہر پیش آیا ، اس لیے انتظامیہ نے راحت کی سانس لی۔ واقعہ کے بعد کیمپس سے باہر کی بات کر کے ذمہ داری بھی جھاڑ دی گئی، حالانکہ اگر کالیج کھلا ہوتا تو یہ فائرنگ کا واقعہ کیمپس میں بھی پیش آ سکتا تھا، کیونکہ کسی کے آنے جانے پر کوئی پابندی یا نگرانی موجود نہیں ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande