
بہرائچ، 31 مارچ (ہ س) اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی والدہ کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے مولانا عبداللہ سلیم چترویدی کو اتر پردیش اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) نے بہار میں گرفتار کر لیا ہے۔ بہرائچ ضلع کی کوتوالی پولیس نے ملزم کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے اسے جیل بھیج دیا ہے۔
دیوی پاٹن ڈویژن کے انسپکٹر جنرل امت پاٹھک نے منگل کو کہا کہ حال ہی میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔ اس میں بہار کے ارریہ ضلع کے رہنے والے مولانا عبداللہ سلیم چترویدی نے اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے بارے میں تضحیک آمیز تبصرہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں بلرام پور اور بہرائچ اضلاع میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔ یوپی ایس ٹی ایف یونٹ کی گورکھپور ٹیم نے ملزم مولانا کو بہار سے گرفتار کیا اور پوچھ گچھ کے لیے بہرائچ لے آئی۔ جس کے بعد قانونی کارروائی کی گئی اور انہیں جیل بھیج دیا گیا۔
اس سلسلے میں بہار کی امور اسمبلی سے اے آئی ایم آئی ایم کے ایم ایل اے اختر الایمان نے کہا کہ یوپی ایس ٹی ایف نے پیر کو بہار کے پورنیہ سے مولانا کو گرفتار کیا۔ وی ایچ پی لیگل سیل کے ضلع صدر اے پی سنگھ نے 8 مارچ کو بہرائچ سٹی پولیس اسٹیشن میں مولانا کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔ ضلع صدر نے الزام لگایا کہ مولانا نے رمضان کے دوران وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی والدہ کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی تھی۔ مولانا کا مقصد معاشرے میں تفرقہ پیدا کرنا، فسادات بھڑکانا اور امن و امان میں خلل ڈالنا تھا۔ ان کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مختلف ہندو تنظیموں کے ارکان نے مولانا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
مولانا نے معذرت کی۔
ملزم عبداللہ سلیم چترویدی نے کہا، میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے 5 مئی 2024 کو بھاگلپور ضلع کی ایک کالونی میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی، تقریب کے دوران میں نے ایک تقریر کی جس میں میں نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کی والدہ کے خلاف کچھ ناگوار الفاظ استعمال کیے، جو مجھے نہیں کہنے چاہیے تھے۔ میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں اور لوگوں سے بھی اپیل کرنا چاہتا کہ اس غلطی کو دوبارہ نہ دہرایاجائے جس سے کسی کو ٹھیس پہنچے۔ میں وزیر اعلیٰ سے بھی معافی مانگتا ہوں۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی