
جموں, 31 مارچ (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سری نگر میں نیشنل کانفرنس کے ہیڈکوارٹر سے سیکورٹی واپس لینے کے فیصلے پر شدید حیرت اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب حال ہی میں پارٹی صدر فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔اسمبلی کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہیڈکوارٹر کی سیکورٹی میں کمی نہیں بلکہ اسے مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاروق عبداللہ ہفتے میں دو سے تین مرتبہ اس دفتر کا دورہ کرتے ہیں، اس کے باوجود سیکورٹی ہٹانا تشویشناک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 11 مارچ کو فاروق عبداللہ پر ہونے والے حملے کے بعد اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے تھا، کیونکہ اس واقعے کو سبھی نے باعث تشویش قرار دیا تھا۔
ادھر جموں و کشمیر اسمبلی میں اس معاملے پر آدھے گھنٹے کی بحث بھی ہوئی، جس کی شروعات نیشنل کانفرنس کے اراکین نے کی۔ اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے بھی سیکورٹی ہٹائے جانے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یا تو جموں و کشمیر کو مکمل طور پر خطرے سے پاک قرار دیا جائے یا پھر سب کے لیے مناسب سیکورٹی فراہم کی جائے۔وزیر اعلیٰ نے انتظامیہ سے اس فیصلے کی وجوہات واضح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں اور اہم مقامات کی سیکورٹی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر